رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا دہائیوں کا تجربہ ہے: مسعود خان


سابق سفیر مسعود خان نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ سویلین جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال میں پاکستان کا ریکارڈ بہت اچھا ہے،

پاکستان کے ایک سرکاری تھنک ٹینک کے سربراہ اور سابق سفیر مسعود خان نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ سویلین جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال میں پاکستان کا ریکارڈ بہت اچھا ہے، جس کی بنیاد پر دیگر جوہری ریاستوں سے اس شعبے میں تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ مسعود خان نے بطور انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد کے سربراہ کے حال ہی میں ایک مکالمے کا اہتمام کیا تھا، جس میں فرانس کے ایک مؤقر تھنک ٹینک دی فرنچ انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک افیئرز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پاسکل بونی فاس نے کہا تھا کہ فرانس کے بھارت کے ساتھ جوہری روابط کی طرز پر فرانس اور پاکستان کے درمیان بھی سول جوہری تعاون ہو سکتا ہے۔

اگرچہ ڈاکٹر پاسکل نجی حیثیت میں یہ بات کر رہے تھے مگر فرانس کے ایک با اثر تحقیقی ادارے کے سربراہ کی جانب سے فرانس اور پاکستان کے درمیان جوہری تعاون کی حق میں بات کرنا موجودہ تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان کا خیال ہے کہ وہ اتنا تجربہ اور مہارت رکھتا ہے کہ عالمی سطح پر وہ دیگر قوتوں کے ساتھ سول جوہری شعبے میں تعاون کر سکے۔

پاکستان کی حکومت ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے جوہری ٹیکنالوجی اور قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

مسعود خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 70 کی دہائی میں پاکستان کے فرانس کے ساتھ جوہری روابط موجود تھے جنہیں دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔

’’وہ (پاسکل بونی فاس) اس تناظر میں بات کر رہے تھے کہ اگر بھارت اور فرانس کے درمیان یہ رابطے ممکن ہیں تو پاکستان اور فرانس کے درمیان بھی یہ رابطے قائم ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ دونوں ممالک، فرانس اور پاکستان، کے قومی مفاد میں ہو۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بھارت کے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کی وجہ سے بھارت کے لیے کئی راستے کھلے ہیں اور فرانس کے ساتھ اس کے جوہری روابط بھی اسی کا نتیجہ ہیں۔

2005 میں امریکہ نے بھارت کے ساتھ غیر فوجی مقاصد کے لیے جوہری تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ پاکستان بھی امریکہ کے ساتھ اسی قسم کے جوہری تعاون کی خواہش رکھتا ہے اور کئی مرتبہ اس کا اظہار کر چکا ہے۔

مسعود خان کہتے ہیں کہ پاکستان چار عشروں سے سول نیوکلیئیر ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے۔

’’ہم تقریبا 40 برس سے سول نیوکلیئیر ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں، جوہری توانائی میں ہم نے سرمایہ کاری کی ہے جو کامیاب رہی ہے۔ جتنے بھی ہمارے سول جوہری معاہدے ہوئے ہیں یا جو جوہری پلانٹس ہیں وہ آئی اے ای سیف گارڈز کے تحت کیے جاتے ہیں اور ہم تمام تفصیلات سے آئی اے ای اے کو آگاہ کرتے ہیں۔ اگر یہ فرانس سے ساتھ ہوں گے یا دوسرے ممالک کے ساتھ ہوں گے تو وہ سارے کے سارے محفوظ ہوں گے۔‘‘

پاکستان کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ آئندہ 35 سالوں میں ملک میں مجموعی طور پر 40 ہزار میگاواٹ بجلی جوہری توانائی سے حاصل ہو سکے گی۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین محمد نعیم کا کہنا تھا کہ اُن کا ادارہ عوام کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے ثمرات گھر گھر پہنچا کر ملک کے سماجی و اقتصادی شعبے میں ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ان کے بقول ان کا ادارہ ملک میں کینسر کے علاج کے 18 اسپتال چلا رہا ہے جہاں ہر سال ملک میں سرطان کے 80 فیصد مریضوں کے علاج کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

رواں ہفتے ہی پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں امریکی روزنامہ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے جواب میں کہا تھا کہ پاکستان اپنی جوہری دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔

ڈیوڈ اگنیشس نے روزنامہ واشنگٹن پوسٹ میں اپنے مضمون میں دعویٰ کیا کہ وائٹ ہاؤس پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اور ان کے ڈلیوری سسٹم یعنی ترسیل کے نظام پر نئی حدود اور کنٹرول لاگو کرنے کے لیے سفارتی ذرائع تلاش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔

اگنیشس کے بقول اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو بھارت امریکہ سول جوہری معاہدے کی طرز پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG