رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی ایران میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت


پاکستان نے ایران کے دارالحکومت تہران میں پارلیمنٹ کی عمارت اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر بدھ کو ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

ان حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے موثر اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

ایران پاکستان کا پڑوسی ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سرحد لگ بھگ 1000 کلو میٹر طویل ہے۔

تہران اسلام آباد سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ پاکستان اپنے ہاں اُن دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے جو ایران میں شدت پسندی میں ملوث رہے ہیں۔

اپریل کے اواخر میں ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں دہشت گردوں نے حملہ کر کے ایران کے 10 سرحدی محافظوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ شدت پسند تنظیم ‘جیش العدل’ نے میرجاوہ کے علاقے میں کیا۔

جہاں یہ حملہ کیا گیا وہ علاقہ پاکستانی سرحد سے لگ بھگ 75 کلو میٹر ایران کے اندر واقعہ ہے اور ایرانی حکام کے مطابق شدت پسند حملے کے بعد دوبارہ پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG