رسائی کے لنکس

logo-print

نقل مکانی کرنے والے قبائلی خاندانوں کی باجوڑ اور مہمند واپسی


فائل فوٹو

وفاق کے زیر انتظام سات میں سے چھ قبائلی علاقوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جب کہ حالیہ دنوں میں اعلیٰ فوجی حکام نے بیشتر علاقوں سے جنگجوؤں کا صفایا کرنے کے اعلانات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان علاقوں میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے بعد یہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی جاری ہے اور زندگی تیزی سے معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔

ان دعوؤں کی تصدیق اقوام متحدہ کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ حالیہ ہفتوں میں بڑی تعداد میں قبائلی خاندان جلوزئی کیمپ سے باجوڑ اور مہمند گئے ہیں۔

عالمی تنظیم کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ عہدے دار ٹِم اروِن نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران جلوزئی کیمپ سے تقریباً 42 ہزار افراد باجوڑ اور اس سے متصل مہمند ایجنسی کے کچھ علاقوں میں اپنے گھروں کو واپس لوٹے ہیں۔ جلوزئی پاکستان میں پناگزینوں کے لیے قائم بڑے کیمپوں میں سے ایک ہے۔

عالمی تنظیم کے عہدے دار کا کہنا تھا کہ نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی مکمل طور پر رضاکارانہ تھی اور کسی شخص کو بھی کیمپ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ اہل خانہ کے ساتھ جلوزئی کیمپ چھوڑنے سے پہلے کئی افراد نے اپنے علاقوں کا دورہ کیا اور امن و امان کی صورت حال کے بارے میں تسلی کرنے اور سرکاری یقین دہانی کی بنیاد پر واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

ٹِم اروِن
ٹِم اروِن

ٹِم اروِن کا کہنا تھا کہ جلوزئی کیمپ میں جن افراد سے اُن کی بات چیت ہوئی اُنھوں نے بتایا کہ امن و امان کی صورت حال میں بہتری کے بعد وہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں انتہائی پرامید تھے۔

یو این ایچ سی آر نے جلوزئی کیمپ چھوڑنے والوں کو اپنے علاقوں میں واپسی کے لیے ذرائع آمدورفت کے علاوہ روز مرہ استعمال میں آنے والی گھریلو اشیاء بھی فراہم کیں، جب کہ جن خاندانوں کے مکانات سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں اُن کو خیمے بھی دیے گئے۔

ٹِم اروِن کا کہنا تھا کہ اب جلوزئی میں لگ بھگ 26 ہزار افراد موجود ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے ہے جہاں حالیہ مہینوں میں ناصرف فوجی آپریشن میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے بلکہ سرکاری اور دیگر اہداف پر شدت پسندوں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG