رسائی کے لنکس

سوشل میڈیا پر توہین مذہب، چار افراد پر فرد جرم عائد


فائل فوٹو

انسدادِ دہشت گردی کی یہ عدالت ملزمان میں سے ایک کی درخواست ضمانت پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ یہ ملزم کالج کا ایک پروفیسر بتایا جاتا ہے۔

پاکستان کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر توہینِ مذہب پر مبنی مواد شائع کرنے کے الزام میں چار افراد پر فردِ جرم عائد کردی ہے۔

ملزمان کو بدھ کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں انتہائی سخت سکیورٹی پیش کیا گیا جنہوں نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے مقدمے کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان افراد کے شناخت ذرائع ابلاغ کو جاری نہیں کی گئی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف آئی اے' نے چاروں ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران ان کے خلاف پیش کی گئی چارج شیٹ میں مبینہ توہین آمیز مواد اور فرانزک شواہد پیش کیے تھے۔

عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت سے گواہان اور شواہد پیش کرنا شروع کرے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت اب 25 ستمبر کو ہوگی۔

انسدادِ دہشت گردی کی یہ عدالت ملزمان میں سے ایک کی درخواست ضمانت پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ یہ ملزم کالج کا ایک پروفیسر بتایا جاتا ہے۔

گزشتہ سال اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ عدالت متعلقہ حکام کو سوشل میڈیا پر توہین مذہب پر مبنی مواد ہٹانے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے۔

رواں سال اس درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے جہاں اس ضمن میں وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو احکامات جاری کیے تھے وہیں یہ تجویز بھی دی تھی کہ توہینِ مذہب کا غلط الزام لگانے والوں کے لیے بھی وہی سزا مقرر کی جائے تو اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے ہے۔

پاکستان کے قانون میں توہینِ مذہب کے مجرم کی سزا موت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG