رسائی کے لنکس

خواتین پر تیزاب سے حملوں کے خلاف قانون کی منظوری


خواتین پر تیزاب سے حملوں کے خلاف قانون کی منظوری
خواتین پر تیزاب سے حملوں کے خلاف قانون کی منظوری

پاکستان میں تیزاب اور دیگر کیمیائی مواد پھینک کر خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے جرائم کی حوصلہ شکنی کے لیے قومی اسمبلی نے منگل کو ایک قانون کی متفقہ طور پر منظوری دی۔

اراکین پارلیمان کا کہنا ہے کہ مناسب قوانین کی عدم موجودگی کے باعث ملک میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔

تعزیرات میں شامل کی گئی نئی شقوں کے تحت کسی شخص کو تیزاب سے ضرر پہنچانے والے مجرم کو عمر قید یا کم از کم 14 سال قید کی سزا سنائی جا سکے گی جب کہ عدالت مجرم پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کرنے کی مجاز ہو گی۔

مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والی رکن ماروی میمن نے اس مسودے کی تیاری اور اس کی منظوری میں ایک سرگرم کردار ادا کیا۔ اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ تیزاب سے حملے جیسے خوفناک جرم کے تدارک کے لیے ایک ایسے قانون کی ضرورت تھی جو مجرم کو سخت ترین سزا دے۔

’’اس سے یہ ہو گا کہ ایک ڈیٹرنٹ (حوصلہ شکنی) ہوگا۔ جو لوگ اس قسم کی خوفناک حرکتیں کرتے ہیں وہ تھوڑا سوچیں گے کہ اُن کو کافی ٹھیک ٹھاک سزا بھی مل سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضروری یہ ہے کہ اس کا نفاذ ہر رکن اسمبلی اپنے اپنے حلقے میں کرائے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ جب مجرموں کو خوفناک سزا دی جائے گی تو دوسرے لوگ ایسا کرنے سے گریز کریں گے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قوانین کی موجودگی کے باوجود پولیس کے نظام میں خامیوں، بد عنوانی اور با اثر افراد کی معاونت سے اکثر جرائم پیشہ افراد سزا سے بچ نکلتے ہیں۔

نئے قانون میں عدالت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کو تیزاب سے متاثرہ شخص کے طبی و دیگر مالی اخراجات ادا کرنے کا پابند بنا سکتی ہے۔

اراکین اسمبلی نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ یہ قانونی مسودہ سینیٹ میں بھی بغیر کسی رکاوٹ کے منظور کر لیا جائے گا اور حتمی بل پر صدر کے دستخط کے بعد یہ قانون فی الفور نافذالعمل ہو جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کے سامنے رواں سال پیش کی گئی انسانی حقوق سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں بھی پاکستان میں خواتین کو تیزاب پھینک کر تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG