رسائی کے لنکس

logo-print

ڈان کے دفتر کا ایک بار پھر محاصرہ، نامعلوم مظاہرین نے کاپیاں نذر آتش کر دیں


اسلام آباد میں ڈان کے دفتر کے باہر نامعلوم مظاہرین اخبار کی کاپیاں جلا رہے ہیں۔ 6 دسمبر 2019

اسلام آباد میں انگریزی اخبار ڈان کے دفتر کے باہر درجنوں مظاہرین نے جتجاج کیا اور ڈان اخبار کی کاپیاں پھاڑ کر نذرآتش کر دیں۔ مظاہرین نے ڈان کے دفتر کا گھیراؤ کیا تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے آنے پر مظاہرین منتشر ہو گئے۔ ڈان نیوز کے دفتر کے باہر ایک ہفتتے کے دوران یہ دوسرا اجتجاج ہے۔

اسلام آباد میں انگریزی زبان کے اخبار روزنامہ ڈان کے دفتر کے باہر رواں ہفتے میں دوسری بار بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ اس سے قبل مظاہرین نے پیر کے روز اسلام آباد دفتر کے سامنے اکھٹے ہو کر نعرے بازی کی تھی، لیکن اس بار انہوں نے نے بڑی تعداد میں ڈان اخبار کی کاپیاں پھاڑ کر انہیں دفتر کے سامنے نذرآتش کیا۔

اس موقع پر ڈان کے ملازمین عمارت کے اندر محبوس ہو گئے اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا گیا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے پہنچنے کے بعد مظاہرین وہاں سے چلے گئے۔

اس بارے میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے کہا کہ ڈان کے دفتر کے لیے 24 گھنٹوں کی سیکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے بارے میں پولیس سے رپورٹ طلب کی گئی ہے کہ مظاہروں کی اطلاعات فراہم کرنے والی اسپیشل برانچ نے اس سلسلے میں معلومات کیوں نہیں دیں۔

اس سے قبل پیر کے روز بھی اسی طرح کے نامعلوم افراد نے ڈان کے دفتر کا گھیراؤ کیا تھا اور مخالفانہ بینر لہراتے ہوئے نعرے بازی کی تھی۔ جمعہ کے روز بھی نامعلوم افراد بڑی تعداد میں وہاں پہنچے اور اجتجاجی مظاہرہ کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے ڈان کے محاصرے اور کاپیاں نذر آتش کرنے کے واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ تمام میڈیا ہاؤسز اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈان اخبار سچ کی آواز اٹھا رہا تھا اور اس کی آواز کو لوگ دبانا چاہ رہے ہیں۔ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ تمام میڈیا ہاؤسز اٹھ کھڑے ہوں، ورنہ ایک کے بعد دوسرا میڈیا ہاؤس نشانہ بنتا رہے گا۔

ڈان اخبار کی سڑک پر بکھری ہوئی ادھ جلی کاپیاں۔ 6 دسمبر 2019
ڈان اخبار کی سڑک پر بکھری ہوئی ادھ جلی کاپیاں۔ 6 دسمبر 2019

احتجاجی مظاہرے کے بعد ڈان کے دفتر کے باہر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔

اس مظاہرے سے ایک روز قبل مختلف صحافتی تنظیموں نے ڈان سے اظہار یک جہتی کے لیے ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے کیے تھے۔

کئی صحافتی تنظیموں نے جمعے کے مظاہرہ کی بھرپور مذمت کی اور اسے سچ کی آواز دبانے کے مترادف قرار دیا۔

پی ایف یو جے کے صدر رانا عظیم کہتے ہیں کہ اگر ایسے مظاہروں کا سلسلہ نہ رکا تو ہمارا اجتجاج اس سے کہیں زیادہ بڑا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مظاہرہ صرف ڈان نہیں بلکہ پوری صحافتی برادری کے خلاف ہے۔ ہم نے پہلے بھی ڈان کا ساتھ دیا اور آج بھی ہم ڈان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے ساتھ مل کر ہم حکومت کے خلاف مظاہرے کریں گے۔

ڈان نیوز کے بیورو چیف افتخار شیرازی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نامعلوم افراد کی جانب سے اس طرح کے مظاہرے حیران کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور صرف سچ کو لکھا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود ایسے مظاہرے ہونا حیران ہے۔

جمعے کی صبح سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس وقار الدین سید نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی تھی کہ اس طرح کے مظاہرے روکنے کے لیے ٹھوس حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے، لیکن اس کے باوجود شام کو ایک بار پھر نامعلوم مظاہرین ڈان اخبار کے دفتر کے باہر اکھٹے ہو گئے۔

کمیٹی کے چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اجلاس کے دوران کہا کہ میڈیا کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جن اداروں کے ساتھ مسائل ہیں وہی معاملے اٹھانے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستانی میڈیا کے بارے میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

پیر کے روز ہونے والے حملہ کے بعد مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ تھا کہ وہ ڈان پر حملے کے خلاف ہیں اور اس معاملے میں صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG