رسائی کے لنکس

logo-print

نامعلوم افراد کا روزنامہ ڈان کے اسلام آباد دفتر کا گھیراؤ اور نعرے بازی


ڈان نیوز کے اسلام آباد دفتر کے سامنے مظاہرین کے بینرز۔ 2 دسمبر 2019

پاکستان کے موقر انگریزی روزنامہ 'ڈان' کے اسلام آباد دفتر کا نامعلوم افراد نے گھیراؤ کیا۔ گھیراؤ کرنے والے مظاہرین اخبار کی جانب سے لندن برج حملے میں ملوث عثمان خان کو پاکستانی نژاد برطانوی شہری قرار دیئے جانے پر احتجاج کر رہے تھے۔

یہ احتجاج پاکستان کے وفاقی وزراء کی جانب سے اس خبر کے اجراء پر تحفظات کے بیانات جاری کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔

معروف انگریزی روزنامہ نے ہفتے کے روز اپنی ایک خبر میں برطانوی حکام کے حوالے سے لکھا تھا کہ 28 سالہ عثمان خان پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں جنہوں نے اپنا لڑکپن پاکستان میں گذارا تھا اور واپس جانے کے بعد انٹرنیٹ پر انتہا پسندانہ خیالات کا اظہار شروع کر دی تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے لندن برج کے قریب ایک چاقو بردار شخص نے خاتون سمیت دو افراد پر وار کر کے انہیں ہلاک اور تین کو زخمی کر دیا تھا۔ برطانوی پولیس نے حملہ آور کی شناخت عثمان خان کے نام سے ظاہر کی جسے مسلح پولیس اہل کاروں نے گولیاں مار کر موقع پر ہی ہلاک کر دیا تھا۔

عثمان خان کو اس سے قبل شہر کی سٹاک ایکسچینج پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں جیل بھیجا گیا تھا اور وہ گزشتہ دسمبر سے مشروط ضمانت پر جیل سے باہر تھے۔ 2012 میں انھیں 'عوام کی حفاظت' کی غرض سے غیر معینہ مدت کے لیے قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سوموار کی شام اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر واقع روزنامہ ڈان کے دفتر کے باہر اچانک کچھ لوگ نمودار ہو گئے جن میں سے زیادہ تر نوجوان تھے اور اخبار کے خلاف نعرے لگانا شروع کر دیئے۔

لاؤڈ اسپیکر پر کی جانے والی تقاریر میں ڈان اخبار کی جانب سے عثمان خان کو پاکستانی نژاد برطانیوی شہری لکھنے کو قومی مفادات کے خلاف قرار دیا گیا اور اخبار کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ اس دوران اڑھائی گھنٹے تک ڈان اخبار اور ڈان ٹی وی کے ملازمین دفتر میں محصور رہے۔

مظاہرین نے جو بینرز اٹھا رکھے تھے، ان پر کسی تنظیم کا نام نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے اپنی شناخت کسی تنظیم کی حیثیت سے کروائی۔

پاکستان تحریک انصاف کی شریں مزاری نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ڈان کا ایک مخصوص ایجنڈا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمن بلاول بھٹو زرداری نے روزنامہ ڈان کے گھیرائو کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے نام پر کسی کو بھی آزادی صحافت پر حملے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

اپنے بیان میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میڈیا کو دباؤ میں ڈالنا اور ڈکٹیٹ کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مسلسل آزادی صحافت پر حملہ آور ہے اور جمہوری، بنیادی انسانی حقوق اور میڈیا کی آزادیاں تک صلب کر رکھی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں ایک گروپ نے آ کر میڈیا ہائوس کا راستہ بند کردیا اور حکومت تماشہ دیکھتی رہی۔ ان کے مطابق اخبار کا گھیرائو صحافت کی آواز دبانے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اور نگزیب نے ڈان گروپ اسلام آباد کے دفتر پر نامعلوم افراد کے محاصرے کی مذمت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافتی ادارے پر دھاوا بولنے کے واقعہ کی اعلی سطحی تحقیقات کرائی جائیں اور اس کے ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مرتضیٰ سولنگی نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس واقعہ پر تشویش کرتے ہوئے کہا ہے مظاہرین کو روکنا حکومت کی ذمہ داری تھی۔

سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر نے اخبار کے دفتر کے گھیراؤ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے معاملے پر رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں حکام اس معاملے پر اراکین کو بریف کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG