رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور: ہلاکتوں میں اضافہ، ملبہ ہٹانے کا کام بدستور جاری


امدادی کارروائیاں رات بھر جاری رہیں جس میں پاکستانی فوج بھی حصہ لے رہی ہے اور حکام کے بقول ملبے کو احتیاط سے ہٹا کر یہاں پھنسے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے مرکزی شہر لاہور میں ایک فیکٹری کی عمارت منہدم ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے جب کہ اب بھی متعدد افراد ملبے تلے دبے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع چار منزلہ عمارت میں قائم فیکٹری میں پلاسٹ کے لفافے اور بیگ تیار کیے جاتے تھے۔ بدھ کی اس عمارت کی چھت اچانک سے زمین بوس ہو گئی جس سے یہاں موجود کم ازکم دو سو سے زائد افراد ملبے تلے دب گئے۔

اتوار کو حکام نے بتایا کہ اب تک 92 افراد کو یہاں سے نکالا جا چکا ہے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

امدادی کارروائیاں رات بھر جاری رہیں جس میں پاکستانی فوج بھی حصہ لے رہی ہے اور حکام کے بقول ملبے کو احتیاط سے ہٹا کر یہاں پھنسے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق یہ فیکٹری مبینہ طور پر تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی تھی جب کہ گزشتہ آنے والے زلزلے سے بھی اس عمارت میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔

وزیراعظم نوازشریف نے اس واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان میں فیکٹری یا کارخانے میں حادثے یا کسی عمارت کے منہدم ہونے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔

2013ء میں کراچی کی ایک فیکٹری میں آتشزدگی سے کم ازکم 255 افراد ہلاک ہو گئے تھے جسے ملک میں صنعتی شعبے میں ہونے والا سب سے ہلاکت خیز واقعہ تھا۔

XS
SM
MD
LG