رسائی کے لنکس

ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 23 ہزار سے بڑھ گئی


کراچی کے ایک اسپتال میں ڈینگی کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔
کراچی کے ایک اسپتال میں ڈینگی کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔

پاکستان بدستور ڈینگی کی زد میں ہے جس کے نتیجے میں اب تک 40 ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور ڈینگی کا وائرس راولپنڈی اور اسلام آباد کے بعد اب کراچی میں بھی پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ 2011 کے بعد پہلی بار ڈینگی کے اتنے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی محکمہ صحت کے مطابق اس وقت تک 23 ہزار سے زائد افراد ڈینگی کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے 44 فی صد یعنی 10 ہزار سے زائد مریض صرف اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہیں۔

وی او اے سے بات کرتے ہوئے چیف آف ڈیزیز سرولینس ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ ڈینگی کی وبا اس وقت ایشیا کے کئی ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت تین پوائنٹس ایسے ہیں جہاں ڈینگی کا زور سب سے زیادہ ہے جس میں راولپنڈی اسلام آباد، کراچی اور پشاور کے علاقے شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں ڈینگی میں مبتلا مریضوں کی تعداد 5 ہزار ہے جس میں سے زیادہ تر کا تعلق پوٹھوہار کے علاقتے سے ہے، جب کہ کراچی میں یہ تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح پشاور میں ڈینگی کے 2500 مریض موجود ہیں۔

ڈینگی کا مرض ایک مخصوص قسم کے مچھر سے پھیلتا ہے۔
ڈینگی کا مرض ایک مخصوص قسم کے مچھر سے پھیلتا ہے۔

ڈاکٹر صفدر کے مطابق ڈینگی کے مریضوں کی موجودہ تعداد صوبہ سندھ اور خیبر پختونخواہ میں 4 ، 4ہزار، پنجاب میں 5 ہزار اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں 2500 ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف اسلام آباد میں ڈینگی کا مرض 5 ہزار افراد میں پایا گیا ہے۔

ڈاکٹر صفدر کا کہنا تھا کہ ایک باقاعدہ مانیٹرنگ کا نظام وضح کیا گیا ہے جو اس سے پہلے نہیں تھا البتہ اس پر مکمل قابو پانے میں وقت لگ سکتا ہے۔

دوسری طرف اسلام آباد میں ڈینگی کا ٹیسٹ کروانے کے لیے آنے والوں کی لمبی قطاریں اب بھی موجود ہیں۔ وی او سے بات کرتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بتایا کہ پچھلے 24 گھنٹے میں 700 سے زیادہ مریض اس خدشے کے تحت اسپتال آئے کہ انہیں ڈینگی ہے۔ البتہ ان میں سے 350 سے اوپر کنفرم کیسز ثابت ہوئے۔

لاہور میں ڈینگی کے مچھروں کے خاتمے کے لیے سپرے کیا جا رہا ہے۔
لاہور میں ڈینگی کے مچھروں کے خاتمے کے لیے سپرے کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر وسیم کا کہنا تھا کہ ڈینگی ہو جانے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ جان لیوا ہی ثابت ہو گا۔ عام طور پر مریض کی حالت اس وقت خراب ہوتی ہے جب پیچدگیاں پیدا ہو جائیں، جیسے کہ معدے میں درد کی شدت میں اضافہ ہو جانا، خون کی قے آنا یا اس جیسے دوسرے مسائل۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی کے علاج پر انحصار کرنے سے اچھا یہ ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے، جن میں گھروں میں صاف پانی کے نکاس کو یقینی بنانا، لمبی آستینوں کے لباس پہننا اور شام کے وقت بلاضرورت گھر سے نکلنے سے اجتناب کرنا۔

ڈاکٹر وسیم کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مریضوں کا علاج او پی ڈی میں ہی کیا جا رہا ہے۔ مریض کو داخل کرنے کی نوبت صرف ایسے کیسز میں ہوتی ہیں جن میں ڈینگی کا مرض شدت اختیار کر چکا ہو۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن افراد پر پہلے بھی ڈینگی کا حملہ ہو چکا ہو، انہیں چاہیے کہ وہ زیادہ محتاط رہیں، کیونکہ دوسری بار دینگی کا حملہ جان لیوا بھی ثابت بھی ہو سکتا ہے۔

وفاقی محکمہ صحت کے مطابق اب تک 8 ہزار سے زائد مریضوں کو علاج کے بعد اپنے گھروں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس سال کے شروع میں یہ خدشہ ظاہر کر دیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ڈینگی سے نمٹنا دنیا کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں موجود 2500 کیسز ان دنوں سامنے نہیں آئے بلکہ یہ کیسز مارچ اور اپریل میں رپورٹ کیے گئے تھے۔

  • 16x9 Image

    گیتی آرا

    گیتی آرا ملٹی میڈیا صحافی ہیں اور وائس آف امریکہ اردو کے لئے اسلام آباد سے نیوز اور فیچر سٹوریز تحریر اور پروڈیوس کرتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG