رسائی کے لنکس

سیاچن کے سرحدی تنازع پر پاک بھارت مذاکرات


سیاچن کے سرحدی تنازع پر پاک بھارت مذاکرات

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاچن گلیشئر کے تنازع پر بات چیت کا ایک نیا دور پیر سے نئی دہلی میں شروع ہوا۔

سیکرٹری دفاع کی سطح پر ہونے والا یہ دو روزہ اجلاس پاک بھارت جامع امن مذاکرات کی بحالی کے بعد دوطرفہ تعلقات میں بہتری اور متنازع اُمور کا متفقہ حل تلاش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید اطہر علی جب کہ بھارتی وفد کی سربراہی پردیپ کمار کر رہے ہیں۔

ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں دنیا کے اس بلند ترین محاذ جنگ سے پاک بھارت افواج کی واپسی کے لیے ماضی میں بھی بات چیت کے متعدد دور ہو چکے ہیں لیکن مسئلے کا حل تلاش کرنے میں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں کی جا سکی ہے۔

سطح سمندر سے ساڑھے پانچ ہزار سے بھی زیادہ بلند اس میدان جنگ میں افواج کی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے پاکستان اور بھارت کو بھاری اخراجات اُٹھانا پڑ رہے ہیں جب کہ یہاں شدید موسمی حالات کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتیں براہ راست لڑائی کے باعث ہونے والے جانی نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔

ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین کے مطابق سیاچن پر جاری لڑائی کی وجہ سے اس گلیشئر کے پگھلاؤ میں بھی نمایاں تیزی آئی ہے اور اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے غیر رسمی سفارت کاری میں سرگرم کارکنوں نے تجویز دی ہے کہ دونوں ملکوں کی افواج کو یہاں سے واپس بلا کر اس برفانی خطے کو نیچرل پارک قرار دے دیا جائے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان سیاچن پر موجود دونوں ملکوں کی افواج کی موجودہ پوزیشنوں کو حتمی طور پر تسلیم کر لے تو وہ اپنی فوجیں واپس بلانے پر تیار ہے لیکن پاکستان اس پیشکش کو مسترد کرتا ہے کیوں کہ اس کا موقف ہے کہ بھارت نے 1984ء میں سیاچن پر فوج کشی کرکے اس کے زیر انتظام علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق سیاچن کا مسئلہ آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس سے جڑی معاملات دیگر تنازعات بشمول کشمیر کی نسبت کم پیچیدہ ہیں۔

پاک فضائیہ کے سابق ایئر مارشل مسعود اختر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’اگر دونوں ملکوں کی فوجیں وہاں سے واپس آ جاتی ہیں تو یہ پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے اچھا ہے، کشمیر ایک بہت پیچیدہ معاملہ ہے جس کو حل کرنا مشکل (ثابت) ہو رہا ہے لیکن اگر سیاچن اور سرکریک کا معاملہ حل ہو جاتا ہے تو یہ ایک طرح کے سی بی ایمز یعنی اعتمادی سازی کے اقدامات ہوں گے اور تنازع کشمیر کو بھی حل کیا جا سکے گا۔‘‘

XS
SM
MD
LG