رسائی کے لنکس

سیاچن کی جغرافیائی ، سیاسی اور فوجی اہمیت


سیاچن کی جغرافیائی ، سیاسی اور فوجی اہمیت

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاچن گلیشیئر پر مذاکرات کا بارھواں دورجاری ہے۔ اگر چہ ماہرین اس مسئلے کو پاکستان اور بھارت کے درمیان دیگر مسائل کے مقابلے میں زیادہ مشکل خیال نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود سیاچن کا ابھی تک کوئی حل نہیں نکل سکا۔

دونوں ممالک کے درمیان اس گلیشیئر کی جغرافیائی ، سیاسی اور فوجی اہمیت کچھ اس طرح ہے:

سیاچن ، ہمالیہ کے شمالی پہاڑی سلسلے میں واقع دنیا کا سب سے اونچا فوجی محاذ ہے۔ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کا سبب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اب تک کی جنگوں میں یہ تنازع سرفہرست رہا ہے۔یہاں دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی کے ٹو بھی واقع ہے۔

سیاچن کا غیر آباد علاقہ سطح سمندر سے بیس ہزارفٹ ( چھ ہزار میٹر) بلند ہے ۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت ترین موسم اور اس کے سبب پیدا ہونے والے سنگین مسائل سے جتنی اموات ہوتی ہیں اتنی اموات میدان جنگ میں بھی نہیں ہوتیں۔

یہاں دونوں ممالک کے اندازاً دس سے بیس ہزار فوجی 1984ء سے ایک دوسرے کے سامنے سینہ سپر کئے کھڑے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ اس کے قبضے میں تھا لیکن یکم اپریل 1984ء کو بھارت نے ایک فوجی آپریشن کے ذریعے پاکستانی حدود میں واقع سیاچن گلیشییر پر قبضہ کرلیا اور یہاں مستقل فوجی چوکیاں قائم کرلیں۔

بھارت تجویز پیش کرچکا ہے کہ اگر اس کی موجودہ فوجی پوزیشن کو تسلیم کرلیا جائے تو بھارت سیاچن سے اپنی فوجیں واپس بلا سکتا ہے تاہم پاکستان کو یہ شرط قبول نہیں۔

گلیشیئر کی اہمیت کے پیش نظر یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان بحث و تکرار کا سبب ہے ۔ انیس سو چوراسی تک یہاں کسی بھی ملک کی فوجیں نہیں تھیں ۔

دونوں ممالک سیاچن سے اپنی اپنی فوجیں ہٹانے پر رضامند ہیں لیکن دونوں میں سے کوئی بھی پہل کرنے کو تیار نہیں۔ بھارت اونچائی پر قابض ہے اور اسے یہ خوف ہے کہ اگر اس نے یہ چوٹی خالی کردی تو کہیں پاکستان اس پر قبضہ نہ کرلے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ بھی اپنی فوج کو واپس بلانے کے لئے تیار ہے لیکن اس سے پہلے بھارت کو گلیشیئر پر قابض ہونے کے دعوے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

یہ گلیشئر پاکستان کے دریاوٴں میں پانی کی روانی کااہم ترین ذریعہ ہے ۔

اس مسئلے پر دونوں ممالک کی جانب سے بات چیت کا فیصلہ 1985 میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی اور پاکستانی فوجی صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے درمیان اومان اور نیو دہلی میں ہونے والے ملاقاتوں میں کیا گیا تھا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق سیاچن کے برفانی خطے میں عسکری ساز و سامان ، جوان اور سامان رسد پہنچانا انتہائی مشکل امر ہے اور اس پر دونوں ممالک کو انتہائی خطیر رقم کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے اخراجات کہیں زیادہ ہیں کیوں کہ وہ زیادہ اونچائی پر موجود ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 1984 سے 2004 کے درمیان سیاچن کے محاذ پر 2200 پاکستانی اور 4000 بھارتی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG