رسائی کے لنکس

logo-print

غیر ملکی سفیروں اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کا شمالی وزیرستان کا دورہ


فوج کے بیان کے مطابق سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کو آپریشن ’ضرب عضب‘ میں ملنے والی غیر معمولی کامیابیوں سے آگاہ کیا گیا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں فوج کو ملنے والی کامیابیوں سے آگاہ کرنے کے لیے پہلی مرتبہ غیر ملکی سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے عہدیداروں کو اس قبائلی علاقے کا دورہ کرایا گیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق شمالی وزیرستان کا دورہ کرنے والے وفد میں افغانستان اور ہالینڈ کے سفیر، آسٹریلیا کے ہائی کمشنر، امریکہ، جرمنی اور ارجنٹائن کے سفارت خانوں کے ناظم الامور جب کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک، ادارہ برائے پناہ گزین اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اداروں کے نمائندے بھی شامل تھے۔

غیر ملکی سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کے ہمراہ وفاقی وزیر برائے سرحدی امور عبدالقادر بلوچ، وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز اور کور کمانڈر پشاور لفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمٰن بھی شمالی وزیرستان گئے۔

فوج کے بیان کے مطابق سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کو آپریشن ’ضرب عضب‘ میں ملنے والی غیر معمولی کامیوں سے آگاہ کیا گیا۔

بیان کے مطابق دہشت گردوں سے قبضے میں لی گئی اور اُن کی تباہ کردہ پناہ گاہیں، دیسی ساخت کے بم بنانے کی فیکٹریاں، سرنگیں، خودکش بمباروں کے لیے تربیتی مراکز اور دہشت گردوں سے قبضے میں لیا گیا گولہ و بارود بھی غیر ملکی وفد کو دکھایا گیا۔

سرکاری بیان کے مطابق غیر ملکی وفد نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستانی قوم اور فوج کے عزم اور قربانیوں کو سراہا۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوج نے ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف 15 جون کو آپریشن ’ضرب عضب‘ کا آغاز کیا تھا۔

اس قبائلی علاقے کو دہشت گردوں کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا تھا جہاں اُن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول اور مواصلاتی مراکز کے علاوہ تربیتی سینٹر، پناہ گاہیں اور گولہ و بارود تیار کرنے اور اُنھیں ذخیرہ کرنے کی جگہیں تھیں۔

فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں اب تک 1200 سے زائد ملکی اور غیر ملکی دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جب کہ 90 فیصد حصے سے شدت پسندوں کا صفایا کیا جا چکا ہے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد وہاں سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ حکومت پاکستان ان افراد کی واپسی اور اُن کے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے بین الاقوامی برادری سے مدد کے حصول کی خواہاں ہے اور اس سلسلے میں جلد ہی ایک کانفرنس کے انعقاد کا بھی امکان ہے۔

غیر ملکی سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کو شمالی وزیرستان لے جانے کا مقصد بظاہر انھیں اس بات سے آگاہ کرنا بھی تھا کہ اس علاقے کی بحالی کے لیے کثیر مالی وسائل درکار ہیں۔

XS
SM
MD
LG