رسائی کے لنکس

نئی حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پر اختلافات بدستور برقرار


قومی اسمبلی - فائل فوٹو

نئی مردم شماری کے عبوری نتائج کی بنیاد پر نئی انتخابی حلقہ بندیوں کے لیے آئینی ترمیم کے مسودے پر حکومت اور حزب مخالف کے اختلافات تاحال حل نہیں ہو سکے ہیں۔

منگل کو ایک بار پھر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے راہنماؤں کے اجلاس میں بھی اس بارے میں اتفاق رائے پیدا نہیں کیا جا سکا اور پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے تحفظات دور نہ کیے جانے کی بنا پر ترمیمی مسودے کی حمایت کی حامی نہیں بھری۔

ان دونوں جماعتوں کو سندھ میں ہونے والی مردم شماری پر تحفظات ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی راہنما فاروق ستار نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ان تحفظات کے ہوتے ہوئے وہ کیسے عبوری نتائج کو تسلیم کر لیں۔ انھوں نے یہ تجویز دی کہ آبادی کی بجائے ووٹرز کی تعداد کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کر لی جائیں۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی راہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اس موقف پر قائم ہے کہ قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل یہ ترمیم مشترکہ مفادات کونسل سے منظور کروائی جائے۔

اس اختلاف رائے اور آئینی ترمیم میں منظوری میں تاخیر سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں نہ ہونے سے عام انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے دس نومبر تک اس ترمیم کو منظور کرنے کا کہہ رکھا ہے اور اس کے بقول اس کے بعد اس کے لیے حلقہ بندیاں کرنے کا وقت بہت کم رہ جائے گا۔

گزشتہ ہفتے پارلیمانی راہنماؤں کے ہونے والے دو اجلاسوں کے بعد اسپیکر ایاز صادق نے کہا تھا کہ اس ترمیمی مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے اور اسے اسمبلی میں پیش کر کے منظور کروا لیا جائے گا۔ لیکن بعد ازاں یہ مسودہ اسمبلی میں پیش نہ ہو سکا اور پھر ایوان زیریں کا اجلاس بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

اجلاس ملتوی کیے جانے پر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ خاصے برہم نظر آتے ہیں اور ان کے بقول اس طرح اجلاس کو ملتوی کیے جانے کی مثال انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "طے تو یہ ہوا تھا کہ یہ اسمبلی چلے گی اور آئندہ منگل تک چلے گی ، تیس سال سے تو ہم اسمبلیوں میں موجود رہے ہیں آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا۔"

دریں اثناء حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے راہنما حزب مخالف پر زور دے رہے ہیں کہ وہ آئندہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے لیے اس ترمیمی مسودے کی منظوری میں اپنا کردار ادا کریں۔

اپوزیشن کی ان جماعتوں کے اختلاف پر انھیں حکومتی جماعت تنقید کا بھی نشانہ بنا رہی ہے۔

منگل کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں سے چھوٹے صوبوں کو فائدہ ہو گا اور ان کے بقول اس میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش ان کے نزدیک سازش ہے۔

"سیٹیں تو نون لیگ کی کم ہو رہی ہیں۔ ن لیگ کو تو کوئی مسئلہ نہیں. چھوٹے صوبوں کو حق تو ن لیگ دینا چاہتی ہے اگر سیٹیں خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی بڑھ رہی ہیں تو پیپلز پارٹی کو کیا اعتراض ہے۔ یہ دن میں مانتے ہیں اور رات میں بھاگتے ہیں۔"

نئی حلقہ بندیوں کے مجوزہ قانون کے مطابق پنجاب سے قومی اسمبلی کی نو نشستیں کم ہو جائیں گی اور پنجاب مسلم لیگ ن کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

پارلیمانی راہنماؤں کا اجلاس اب بدھ کو دوبارہ منعقد ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG