رسائی کے لنکس

نئی حلقہ بندیاں آئینی ترمیم، اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی


ایاز صادق نے کہا ہےکہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ ترمیم نہ ہوئی تو سپریم کورٹ جائیں گے۔ اسپیکر نے اس اہم معاملے پر اتفاق رائے قائم کرنے کیلئے تمام پارلیمانی رہنماؤں کو کل مدعو کر لیا ہے

نئی حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پیش کرنے میں حکومت کو پارلیمان میں ایک بار پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات کے باعث، قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے معاملات طے کرنے کیلئے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس منگل کو طلب کر لیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت سوموار کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا جس میں حکومت کو ایک مرتبہ پھر ارکان کی کمی کا سامنا رہا، جس پر اسپیکر بھی نالاں نظر آئے اور حلقہ بندیوں سے متعلق اہم ترمیم منظور نہ ہوسکی۔

اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں سب معاملات طے پا گئے تھے۔ لیکن ،لگتا ہے کہ اچانک ارادہ تبدیل ہونے پر مجھے دوبارہ مشاورتی اجلاس بلانا پڑے گا۔

ایاز صادق نے کہا کہ جب تک حکومت تمام تحفظات دور نہیں کرتی، ہم بیٹھے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ ترمیم نہ ہوئی تو سپریم کورٹ جائیں گے۔

اسپیکر ایاز صادق نے اہم معاملے پر اتفاق رائے قائم کرنے کیلئے تمام پارلیمانی رہنماؤں کو کل مدعو کر لیا ہے۔

اس موقع پر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اگر سپریم کورٹ جانا چاہے تو یہ ان کا حق ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ عام انتخابات شیڈول کے مطابق اگست میں ہوں گے اور ہمارا مؤقف بھی یہی ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہونے چاہئیں۔

قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ کچھ وزرا کےعام انتخابات میں تاخیر کے بیانات ’’پریشان کن ہیں‘‘۔

پیپلز پارٹی کے رہنما، سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ مسئلے کا حل ڈائیلاگ سے نکلے گا۔ ورنہ، کچھ کر بھی لیں گے تو پھر بھی صورت حال ایسی ہی نظر آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم پر کوئی اعتراض نہیں، جب بات ہوگی تبھی مسئلے کا کوئی حل نکلے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ہماری حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کے تحفظات کو بھی دور کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لیے حکومتی اراکین کا موجود نہ ہونا اس پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔

سابق وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی کا کہنا تھا کہ اگر ترامیم کی یہی رفتار رہی تو ایوان چلانا مشکل ہو جائے گا۔ اگر حکومت آئین کے مطابق چلے گی تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ بقول اُن کے، سیٹوں کی تقسیم کا طریقہ کار مناسب نہیں، اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا اور اگر عزت بچانی ہے تو معاملے کو شفاف طریقے سے حل کرنا ہوگا۔

قومی اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں کیلئے آئینی ترمیم کے معاملے پر دھواں دار بحث تو ہوئی اور بیشتر جماعتیں بر وقت الیکشن کرانے پر بھی متفق نظر آئیں۔ تاہم، آئینی ترمیم پر اختلافات برقرار رہے جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

پاکستان میں مردم شماری کے بعد آئندہ انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیاں کرنے پر بات کی جا رہی ہے۔ لیکن، الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کا کام کرنے کے لیے 10 نومبر سے پہلے آئینی ترمیم کرنا ہوگی جس کے تحت مردم شماری کے فائنل گزٹ سے پہلے نئی حلقہ بندیاں کی جا سکیں گی، جبکہ قومی اسمبلی کی موجودہ نشستوں کی تعداد برقرار رکھتے ہوئے نئی حلقہ بندیاں ہونی ہیں۔ اس حوالے سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن، حکومتی ارکان اسمبلی کی عدم دلچسپی کے وجہ سے حکومت کو کوئی بھی قانون پاس کروانے میں اکثر مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG