رسائی کے لنکس

logo-print

'انتہاپسندی کا خاتمہ مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے'


وزارت داخلہ سے جاری ایک بیان کے مطابق احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں مدرسہ اصلاحات پر کام کیا جا رہا ہے اور اُن کے بقول مدارس نے اس میں بہت دلچسپی لی ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے اور اُن کے بقول اس کے لیے بہت کچھ کرنا ہو گا۔

اُنھوں نے یہ بات مدارس کا کردار کے موضوع پر ایک اسٹڈی رپورٹ کی افتتاحی تقریب میں کہتی۔

اس تقریب میں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ بھی موجود تھے۔

وزارت داخلہ سے جاری ایک بیان کے مطابق احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں مدرسہ اصلاحات پر کام کیا جا رہا ہے اور اُن کے بقول مدارس نے اس میں بہت دلچسپی لی ہے۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ خطے میں امن واستحکام کے لیے لارجر پولیٹکل ایشوز کو حل کیے بغیر دیرپا امن کا حصول ممکن نہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ اس وقت خطے کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کا حل مل کر ہی نکالا جا سکتا ہے اور خاص طور پر نوجوانوں میں انتہا پسندانہ رجحانات کے خاتمے اور اُن کی بحالی کے لیے عالمی برادری کو تعاون کرنا چاہئے تاکہ ان نوجوانوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکے۔

ماہر تعلیم اے ایچ نئیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اب محض بیانات کی بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

’’یہ باتیں تو اب بڑی پرانی ہو گئیں کیونکہ شروع شروع میں لوگوں کا خیال یہ تھا کہ تمام کی جو (انتہا پسندی) ہے وہ مدارس کی وجہ سے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ نہیں یہ جو بیماری ہے انتہا پسندی کی یہ پورے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے اور اس کو پھیلانے میں صرف مدارس کا نصاب ہی نہیں کام کرتا بلکہ عام جو ہمارا تعلیمی نظام ہے اس کا نصاب بھی کام کرتا ہے ہمارا میڈیا بھی کام کرتا ہے ہمارے سیاست دان بھی کام کرتے ہیں اور وغیرہ وغیرہ۔۔۔حقیقت میں تبدیلی نہیں آ رہی نہ یہ لانا چاہتے ہیں اور اس کی بڑی شدید ضرورت ہے۔‘‘

قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ نے منگل کو کہا کہ

5 سے 16 سال کی عمر کے 5 کروڑ 12 لاکھ بچوں میں سے 2 کروڑ 85 لاکھ سکولوں میں ہیں جب کہ 2 کروڑ 26 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جو بچے سکول جاتے ہیں ان میں سے بھی 30 فیصد ہی انٹرمیڈیٹ سطح کی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔

ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ ملک میں 38 ہزار مدارس ہیں جن میں 35 لاکھ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ مدارس کے بچوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے اور لیکن اُن کے بقول مدارس غریب والدین کا سہارا ہیں۔

ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ صرف مدارس نہیں ہر جگہ اصلاحات کی ضرورت ہے جن میں کالج، یونیورسٹیوں میں بھی شامل ہیں۔

قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ مدرسہ اصلاحات کے حوالے سے کافی کام ہو چکا ہے اور ان اصلاحات کو قانونی شکل دینے کا عمل جاری ہے جس کے تحت مدارس کے بچوں کو بھی جدید نصاب پڑھایا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG