رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان ایک بار پھر 'آئی اے اِی اے' کے بورڈ آف گورنرز کا رکن منتخب


پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر جوہری توانائی کے عالمی ادارے' آئی اے اِی اے' کے بورڈ آف گورنرز کا رکن منتخب ہو گیا ہے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کا انتخاب آسٹریا کے دارلحکومت ویانا میں جاری آئی اے اِی اے کے اجلاس کے دوران عمل میں آیا ہے، اور پاکستان کو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے امیدوار کے طور پر پاکستان کا انتخاب متفقہ طور پر عمل میں آیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ ’’پاکستان ماضی میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے بورڈ آف گورنرز کا 19 بار رکن بن چکا ہے؛ جو 'آئی اے اِی اے' کے مقاصد کے ساتھ اور جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کو فروغ دینے کے مقاصد سے ایک طویل عرصے سے پاکستان کی وابستگی کا مظہر ہے‘‘۔

واضح رہے کہ پاکستان کا شمار جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے بانی ارکان میں ہوتا ہے اور دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان کو اس ادارے کے ساتھ جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے لیے دوطرفہ طور پر مفید تعاون بھی حاصل رہتا ہے‘‘۔

اگرچہ جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے حوالے سے پاکستان کی صلاحیت کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر کیا جاتا ہے اور پاکستان ملک کے اندر جوہری توانائی کو بجلی کے حصول اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان ایک جوہری ملک ہونے کے ناتے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا رکن بننے کا متمنی ہے۔

تاہم، جوہری امور کے تجزیہ کار، اے ایچ نئیر کا کہنا ہے کہ سول نیوکلئر گروپ اور عالمی توانائی کا ادارہ آئی اے اِی اے دو مختلف ادارے ہیں اور وہ الگ الگ طریقہٴ کار سے کام کرتے ہیں۔

نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا رکن بننا ایک الگ چیز ہے دونوں ادارے الگ الگ ہیں ’آئی اے اِی اے’ نیوکلئیر سپلائرز گروپ‘ ایک کنسورشیم ہے اور اس میں ان کا آپس میں یہ معاہدہ ہے جسے (ملک) کو خطرہ سمجھیں اس کی (جوہری ٹیکنالوجی و مواد) کی سپلائی روک دیں؛ اور انہوں نے کہا جبکہ آئی اے ای اے اقوام متحدہ کا ادارہ ہے اور اس کا کام ہے کہ جوہری توانائی کے پرامن استعمال کو فروغ دے۔

نیوکلئیر سپلائیرز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کا دارومدار ان ممالک پر ہے جنہوں نے یہ گروپ تشکیل دیا؛ ’’اور وہ ہی اس بات کا فیصلے کرنے کے مجاز ہیں کہ کون اس گروپ کا رکن بن سکتا ہے اور کون نہیں۔"

اے ایچ نئیر کا کہنا ہے کہ پاکستان اس گروپ کی رکنیت شاید بہت پہلے حاصل کر سکتا تھا اگر پاکستان کے ایک جوہری پروگرام سے ماضی میں منسلک رہنے والے ڈاکٹر اے کیو خان پر جوہری مواد کے بعض دیگر ملکوں کو منتقل کرنے کے الزامات سامنے نا آتے۔

تاہم، بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مبینہ اقدام کے بعد پاکستان میں جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے انتہائی سخت قوانین اور ضابطے نافذ کئے جا چکے ہیں اور پاکستان حکام کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ’’جوہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے جامع اور فول پروف سکیورٹی نظام وضع کیا جا چکا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت نیوکلئیر سپلائیرز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کے متمنی ہیں۔ تاہم، اس بارے میں ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG