رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری حملے میں بھارتی پہل کا توڑ حاصل کر لیا: ایڈمرل عباسی


ایڈمرل ظفر عباسی کی واشنگٹن میں پریس بریفنگ
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:50 0:00

ایڈمرل ظفر عباسی کی واشنگٹن میں پریس بریفنگ

پاکستانی بحریہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بابر تھری میزائل بھارتی چیلنج کا جواب دینے کے لئے ہی بنایا ہے مگر یہ بات درست نہیں کہ پاکستان نے اس میزائل کی تیاری میں چین سے مدد لی تھی۔

پاکستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں ایٹمی توازن برقرار رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ پاکستان بھی سمندر سے جوابی کاروائی میں استعمال ہونے والی ایٹمی صلاحیت حاصل کرے کیونکہ بھارت یہ صلاحیت پہلے ہی حاصل کر چکا تھا اور پاکستان کے لئے اس عدم توازن کو ختم کرنا ضروری ہو گیا تھا۔

ایڈمرل عباسی انٹرنیشنل سی پاور سیمپوزیم میں شرکت کے لئے امریکہ آئے ہوئے ہیں، جس میں ڈیڑھ سو ممالک کی بحریہ کے سربراہان شریک ہیں۔

انھوں نے گزشتہ شام واشنگٹن کے پاکستانی سفارتخانے میں میڈیا کو بریفنگ دی۔

ایڈمرل عباسی کا کہنا تھا کہ بحری ایٹمی صلاحیت کسی بھی ملک کو جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت دیتی ہے اور یہ صلاحیت نہ ہونے کی صورت میں بھارت زمینی جنگ میں پہل کرسکتا تھا۔ یہ جارحانہ حکمت عملی نہیں ہے لیکن ہم نے یہ صلاحیت حاصل کرکے کسی زمینی حملے کے امکان کو مسدود کر دیا ہے۔

ایڈمرل ظفر عباسی واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔
ایڈمرل ظفر عباسی واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔

پاکستانی بحریہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بابر تھری میزائل بھارتی چیلنج کا جواب دینے کے لئے ہی بنایا ہے مگر یہ بات درست نہیں کہ پاکستان نے اس میزائل کی تیاری میں چین سے مدد لی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ میزائل مکمل طور پر پاکستان نے اپنے ملک کے اندر اپنی صلاحیتوں سے بنایا ہے۔

انسٹیٹوٹ اف پیس نئی دہلی کے ڈائریکٹر جنرل دیپک بنرجی کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کے ثبوت نہیں تھے کہ پاکستان کے پاس سطح سمندر سے جوہری مار کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن اس صلاحیت کے باوجود جوہری ہتھیاروں کے توازن میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

جنرل دیپک کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ خبر نہیں تھی کہ پاکستان کے پاس سب میرین بلاسٹک میزائل ہے یا نہیں لیکن اگر پاکستان نیول چیف یہ دعوی کرتے ہیں اور یہ ثابت بھی ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس یہ صلاحیت ہے تو ا س سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ان کے پاس سطح زمین کی ایٹمی صلاحیت موجود ہے ہم یقین رکھتے ہیں کہ نارتھ کوریا سے انھیں یہ ٹیکنالوجی ملی تھی۔

ادھر کیٹو انسٹیوٹ واشنگٹن کی رسرچ فیلو ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ پاکستان کی جانب سے سطح سمندر سے استعمال کی جانے والی ایٹمی صلاحیت کے اعلان پر واشنگٹن کو کچھ پریشانی ہو سکتی ہے اور وہ پاکستان سے کہہ سکتا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہ ہو لیکن پاکستان پر اس کا کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ڈاکٹر سحر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار امریکہ کے لئے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان ہتھیاروں کی حفاظت اور اس کی تعداد امریکہ کے لئے بڑا مسئلہ رہا ہے۔ ہتھیاروں کی یہ دوڑ پر امریکہ کے لئے کچھ پریشانی کا باعث ہو سکتی ہے۔ بھارت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات مختلف نوعیت کے ہیں اور پاکستان کے ساتھ مختلف۔ اس تناظر میں امریکہ پاکستان سے کہہ سکتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ نہ کرے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ پاکستان کا اپنا سیکورٹی نظام ہے۔ امریکہ کو صرف انتظار کرنا اور دیکھنا ہو گا کہ پاکستان میں ان ہتھیاروں کو کیسے محفوظ بنایا جاتا ہے۔

ایڈمرل عباسی اپنی پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ پاکستان افغانستان کی سرزمین کو اپنی حکمت عملی کے لئے استعمال کرنا نہیں چاہتا۔ اسے ایسا کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ اس کے اندر دفاعی صلاحیت موجود ہے۔

کروز میزائل بابر تھری کی تجرباتی اڑان۔ جنوری 2017
کروز میزائل بابر تھری کی تجرباتی اڑان۔ جنوری 2017

بحریہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی فوجی امداد بند کرنے کا فیصلہ اچھا نہیں لیکن یہ پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا مسلہ بھی نہیں ہے۔

ایڈمرل عباسی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکہ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں جو باہمی وقار اور تعاون پر مبنی ہوں۔ فوجی امداد ہمارا اصل مقصد نہیں۔ ہم اچھے تعلقات چاہتے ہیں، چاہے فوجی امداد ملے یا نہ ملے۔ ہم امریکی امداد کے بغیر بھی اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان عدم اعتماد کی فضا چھٹ رہی ہے اور تعلقات میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔

نیول چیف نے کہا کہ پاکستان آئندہ سال فروری میں بحری مشقوں کا آغاز کر رہا ہے جس میں امریکہ اور چین سمیت پچاس ممالک کی بحریہ شامل ہو گی۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ گوادر سمیت پاکستان کی کوئی بندرگاہ چین یا کسی بھی ملک کا فوجی اڈا نہیں ہے۔ گوادر تجارتی پورٹ ہے۔ اس بندرگاہ پر آج تک کوئی جنگی جہاز نہیں آیا۔ پاکستان میری ٹائم سیکورٹی کے لئے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

ایڈمرل عباسی نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی ملک کی افغان پالیسی پر اثرانداز نہیں ہو گی۔ ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان میں ایسے وسیع علاقے موجود ہوں جہاں کسی کی بھی حکومت نہ ہو۔ کیونکہ دہشت گرد ان علاقوں کو پاکستان پر حملوں اور منصوبہ بندی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والے مذاکرات کا پاکستان خیر مقدم کرتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں کوئی حل نکل آئے گا۔ چند برس قبل ہم نے بھی مری میں چار فریقی مذاکرات کرائے تھے۔ وہی افغان مسئلے کا بہترین حل تھے جسے ثبوتاژ کر دیا گیا۔

پاکستان نیول چیف نے ایک سوال پر کہا کہ یہ غلط ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی مالی مدد کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کا اہم ترین ذریعہ آمدن منشیات کا کاروبار ہے اور پاکستان اسے روکنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

نیول چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موازنہ شمالی کوریا سے کرنا غلط ہو گا کیونکہ شمالی کوریا ایک ایسا ملک ہے جس کا عالمی برادری میں کوئی دوست نہیں جبکہ پاکستان عالمی برادری میں ایک بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

روڈ آئی لینڈ میں ہونے والی انٹرنیشنل سی پاور سیمپوزیم میں شرکت کے لئے ڈیڑھ سو ممالک کی بحریہ کے سربراہ امریکہ پہنچے ہیں جن میں بھارتی نیول چیف بھی شامل ہیں۔ اس سمپیوزیم کے موقع پر توقع کی جارہی ہے کہ مختلف ممالک کے بحری سربراہوں کے درمیان ملاقات ہو گی۔

پاکستانی نیول چیف کی امریکی معاون سیکریٹری دفاع برائے ایشیاء بحرالکاحل رینڈل شریور سے ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG