رسائی کے لنکس

عائشہ گلالئی کے خلاف عمران خان کا ریفرنس مسترد


عمران خان اور عائشہ گلالئی (فائل فوٹو)

فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے گلالئی نے ایک بار پھر اپنی جماعت کے سربراہ عمران خان کے خلاف اپنے الزامات کو دہرایا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حزبِ مخالف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف سے اپنی جماعت کی ایک منحرف رکن عائشہ گلالئی کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کے لیے دائر ریفرنس مسترد کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے جماعت کی پالیسی سے انحراف کا الزام عائد کرتے ہوئے عائشہ گلالئی کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا تھا جس پر منگل کو کمیشن نے اپنا فیصلہ سنایا۔

عائشہ گلالئی کی نشست برقرار رکھنے کا یہ فیصلہ کثرتِ رائے سے کیا گیا۔ کمیشن میں بلوچستان اور پنجاب کے ارکان نے گلالئی کے خلاف فیصلہ دیا جب کہ چیف الیکشن کمشنر، سندھ اور خیبر پختونخوا کے ارکان نے رکنِ قومی اسمبلی پر ریفرنس میں عائد کیے گئے الزاماتکو مسترد کردیے۔

اس فیصلے کے بعد عائشہ گلالئی بدستور قومی اسمبلی کی رکن رہیں گی۔

فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے گلالئی نے ایک بار پھر اپنی جماعت کے سربراہ عمران خان کے خلاف اپنے الزامات کو دہرایا۔

عائشہ گلالئی کا کہنا تھا کہ "عمران خان ڈینگی جیسے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے احتجاج کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔"

انھوں نے ایک بار پھر پی ٹی آئی پر خواتین کی عزت نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ تحریک انصاف عائشہ گلالئی کے ان الزامات کو مسترد کر چکی ہے۔

قبل ازیں کمیشن میں اپنے دلائل کے دوران تحریکِ انصاف کے وکیل کا استدلال تھا کہ عائشہ گلالئی نے پارٹی پالیسی کے خلاف جاتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کے لیے جماعت کے نامزد امیدوار شیخ رشید کو ووٹ نہیں دیا اور وہ اس انتخاب میں غیر حاضر رہیں۔

اس پر عائشہ گلالئی کا موقف تھا کہ وہ ناسازیٔ طبع کے باعث اسمبلی اجلاس سے غیر حاضر تھیں۔

لیکن پی ٹی آئی نے ایک ٹی وی پروگرام کی اسی روز کی ریکارڈنگ کمیشن میں پیش کر دی تھی جس میں عائشہ گلالئی شریک تھیں۔

تاہم کمیشن نے کثرتِ رائے سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ عائشہ گلالئی پارٹی پالیسی کے برخلاف اقدام کی مرتکب نہیں ہوئیں لہذا ریفرنس خارج کیا جاتا ہے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے ایک مرکزی راہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "ہم اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، عائشہ گلالئی کے اقدام کی وجہ سے پارٹی کی خواتین اراکین کی جدوجہد کو نقصان پہنچا ہے۔"

منگل کو ہی کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو آئین کے منافی قرار دیا۔

"یہ پاکستان کے آئین کے خلاف ہے۔ انھوں (عائشہ گلالئی) نے خود کہا ہے کہ میں پارٹی چھوڑ رہی ہوں۔۔۔ جب وہ پارٹی کی ہدایات پر عمل نہیں کرتیں تو اس کے باوجود کمیشن نے انھیں اجازت دے دی۔"

انھوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ "الیکشن کمیشن انصاف کو سامنے رکھ کر فیصلے کر رہا ہے کہیں ایسا تاثر نہ ملے کہ یہ بالکل تحریک انصاف کے خلاف کھڑا ہے الیکشن کمیشن۔"

عائشہ گلالئی نے یکم اگست کو اچانک تحریکِ انصاف سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان اور پارٹی کے دیگر اعلیٰ رہنماؤں پر سنگین الزامات عائد کیے تھے جسے تحریکِ انصاف نے مسترد کر دیا تھا۔

گلالئی 2013ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص نسشتوں پر پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے نامزد ہوئی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG