رسائی کے لنکس

logo-print

قومی وصوبائی اسمبلیوں کے 100 حلقوں میں جیتنے والے امیدواروں کی برتری مسترد شدہ ووٹوں سے کم ہے


FAFEN LOG-2

انتخابی عمل کے ایک آبزورو گروپ فری اینڈ فئیرالیکشن نیٹ ورک کے سربراہ سرور باری نے کہا ہے کہ انتخابات 2018 میں کسی باقاعدہ منظم دھاندلی کے اشارے نہیں ملتے ہیں تاہم 100 کے قریب قومی اور صوبائی اسمبلی کے ایسے حلقے ہیں جہاں جیتنے والے امیدوار کی برتری ان حلقوں میں مسترد ہونے والے ووٹوں سے کم ہے۔

وائس آف امریکہ کے پروگرام جہاں رنگ میں گفتگو کرتے ہوئے سرور باری نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کے ایسے 35 حلقوں کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں فاتح امیدوار کے حلقے میں مسترد ووٹوں کی تعداد اس کی برتری سے کم تھی۔ فافن کے سربراہ کے مطابق فافن، یورپی یونین اور کامن ویلتھ، تین آبزور گروپس کے 19 ہزار نمائندوں نے پولنگ کے دن 37 ہزار سے زائد پولنگ سٹیشنوں کا دورہ کیا۔ اور ان جگہوں پر ایک تہائی پولنگ سٹیشنوں میں بے ضابطگیاں ضرور نظر آئیں مگر کوئی ایسی قابل ذکر بے ضابطگی نہ تھی جو انتخاب کے نتیجے پر اثر انداز ہو سکتی۔ اس طرح ہم کہہ رہے ہیں کہ کسی طرح کی منظم دھاندلی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

تجزیہ کار، مصنف رانا محبوب اور سوشل پالیسی ڈیویلپمنٹ سنٹر سے وابستہ پروفیسر خالدہ غوث نے کہا کہ انہیں بھی دھاندلی کی باتیں اس لیے زیادہ متاثر نہیں کرتیں کہ عام ووٹروں کی بڑی تعداد اس بار تحریک انصاف کو آزمانے کے لیے تیار نظر آتی تھی، ہوا کا رخ عمران خان کے حق میں تھا۔ تاہم اگر فافن 100 حلقوں کی بات کر رہی ہے جہاں بڑی تعداد میں ووٹ مسترد ہوئے ہیں تو اس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔

اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کے کراچی سے عمران خاں کے مقابلے میں ہارنے والے امیدوار، سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی نے اصفرامام کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ان کے حلقے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں اور باقاعدہ کوششوں سے عمران خان کو جتوایا گیا۔ انہوں نے انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے۔

پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی الیکشنز کو دھاندلی زدہ قرار دے رہے ہیں اور ان انتخابات کے خلاف احتجاج کے لیے حزب اختلاف کی جماعتیں نے ایک گرینڈ الائنس تشکیل دے رہی ہیں۔

پاکستان کے کئی حصوں، بالحصوص خیبر پختون خوا کے کئی قصبوں اور شہروں میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG