رسائی کے لنکس

ایک انٹرویو میں، یورپی یونین کے نمائندہٴ خصوصی نے کہا ہے کہ ’’جب تک افغانستان کے معاملے پر پاکستان تعاون کرنے والا ساتھی نہیں بنتا، ہمارے لئے مشکل ہوگا کہ ہم من چاہے نتایج حاصل کر سکیں‘‘

یورپی یونین کے خصوصی نمائندے اور افغانستان کے لئے یورپی یونین کے وفد کے سربراہ، فرانز مائیکل ملبن نے ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس سے ایک خصوصی انٹرویو میں افغانستان کی صورتحال، پاکستان کا خطے میں کردار اور طالبان کے ساتھ امن بات چیت کے ٹھوس اقدامات پر زور دیا ہے۔

ملبن کا کہنا ہے کہ ہمیں افغانستان میں امن کے حصول اور طالبان کے ساتھ امن عمل کو آگے بڑھانے کے لئے زیادہ توجہ اور کوشش سیاسی حل ڈھونڈنے کے لئے کرنی چاہیئے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ اتنا آسان نہیں ہوگا اور اس کے لئے مشکل فیصلے کرنے ہون گے۔ اس کے لئے، سٹریٹجک ماحول میں تبدیلی لانی ہوگی؛ جس سے طالبان کو قائل کرنا آسان ہو کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔ حالیہ صورتحال کو میں آہستہ سے خراب ہونے والی تعطل کی صورتحال کہوں گا۔ اسے روکنا ہوگا۔‘‘

خطے میں پاکستان کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے، نمائندہ ٴخصوصی نے کہا ہے کہ پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔ اس کا اپنا نظریہ ہو سکتا ہے کہ اس کا کس قسم کا کردار ہونا چاہیئے یا اسے کیا کرنا چاہیئے۔

ملبن کا مزید کہنا ہے کہ ’’جب تک افغانستان کے معاملے پر پاکستان تعاون کرنے والا ساتھی نہیں بنتا، ہمارے لئے مشکل ہوگا کہ ہم من چاہے نتایج حاصل کر سکیں‘‘۔

یورپی یونین کے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ ’’یہ طویل عرصے سے ایک چیلنج رہا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین جو چاہتے ہیں پاکستان اس سے بلکل مختلف سوچ رکھتا ہے۔ یہاں پر ایک خلا ہے جسے پر کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG