رسائی کے لنکس

’پاکستانی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے‘


ایک بیان میں، لفٹیننٹ جنرل مک ماسٹر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’امریکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتا ہے‘‘

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ٹیلی فون پر رابطے کے دوران امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو یقین دہانی کروائی ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر مک ماسٹر اور پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے درمیان منگل کو ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں باہمی دلچسپی کے دو طرفہ اُمور کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر بھی بات چیت کی گئی۔

وزارت خزانہ سے جاری ایک بیان کے مطابق، امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر مک ماسٹر نے لاہور میں رواں ہفتے خودکش حملے میں ہونے والے جانی نقصان پر پاکستانی حکومت اور عوام سے تعزیت کا اظہار کیا۔

پاکستانی وزارت خزانہ کے بیان میں لفٹیننٹ جنرل مک ماسٹر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتا ہے۔

اسحاق ڈار نے امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر کو بتایا کہ ’’پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے اور پاکستانی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔

بیان کے مطابق، اسی سلسلے میں، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے درمیان رواں ہفتے راولپنڈی میں ہونے والی ملاقات کا ذکر بھی امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر سے کیا۔

واضح رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی کمانڈر جنرل نکلسن سے ملاقات میں کہا تھا کہ امریکہ اور افغانستان کے بعض حلقوں کی طرف پاکستان پر الزام تراشی کے باوجود پاکستان دہشت گردی کو شکست دینے کے عزم پر قائم ہے۔

پاکستان کے ایوانِ بالا کے رکن سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی بنائیں۔

دریں اثناٴ، لاہور میں خودکش دھماکے بعد ایک سکیورٹی اجلاس کے دوران منگل کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ کابل اور لاہور میں ہونے والے دھماکے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں دہشت گردی کا شکار ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گرد عناصر افغان سرزمین استعمال کرنے میں کامیاب ہوتے رہے تو دونوں ہی ملک اس صورت حال سے متاثر ہوتے رہیں گے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق جنرل باجوہ نے کہا کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کابل کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

تاحال افغانستان کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

رواں ہفتے ہی کابل میں ایک خودکش بم حملے میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

افغانستان کی طرف سے بھی الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ افغان طالبان کی پناہ گاہیں اب بھی پاکستان میں موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے۔ تاہم، پاکستان اس کی تردید کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG