رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: چار مزید مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد


ساہیوال اور میانوالی کی جیلوں میں سزائے موت کے دو مختلف مجرموں کی پھانسیوں پر عملدرآمد مقتولین کے ورثا کی طرف سے معاف کیے جانے کے بعد ملتوی کر دیا گیا۔

پاکستان میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی سزاؤں پر عملدرآمد پر عائد پابندی گزشتہ دسمبر میں ختم کیے جانے کے بعد سے پھانسی دیئے جانے کا عمل جاری ہے اور بدھ کو ملک کی مختلف جیلوں میں مزید چار مجرموں کو پھانسی دے دی گئی۔

صوبہ سندھ کے شہر سکھر کی جیل میں سزائے موت کے دو مجرموں جلال موریجو اور عبدالرزاق چوہان کو پھانسی دی گئی۔

موریجو نے 1997 میں اپنے ایک رشتے دار کو قتل کیا تھا جب کہ چوہان نے ساتویں جماعت کے ایک طالب علم کو 2001ء میں ہلاک کیا تھا۔

ساہیوال کی جیل شہباز علی کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ اسے 1998 میں زمین کے تنازع پر ایک شخص کو قتل کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

غلام یاسین کو 2002ء میں ایک خاتون کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی جس پر بدھ کی صبح بہاولپور کی جیل میں عملدرآمد کیا گیا۔

اسی اثنا میں ساہیوال اور میانوالی کی جیلوں میں سزائے موت کے دو مختلف مجرموں کی پھانسیوں پر عملدرآمد مقتولین کے ورثا کی طرف سے معاف کیے جانے کے بعد ملتوی کر دیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں غیر اعلانیہ طور پر پھانسیوں پر عائد چھ سالہ پابندی 17 دسمبر کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اولاً اس میں صرف دہشت گردی کے جرم میں موت کی سزا پانے والوں کو پھانسیاں دینے کا کہا گیا لیکن رواں ماہ ہی کسی بھی جرم میں سزائے موت پانے والے مجرموں کو تختہ دار لٹکانے کے لیے سرکاری ہدایات جاری کر دی گئیں۔

انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں اور یورپی یونین نے پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھانسیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

لیکن پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق دی گئی سزاؤں پر قانون کے مطابق عملدرآمد کیا جارہا ہے اور یہ کسی بھی طور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں۔

XS
SM
MD
LG