رسائی کے لنکس

logo-print

جج کے خلاف بار کونسل کی قرارداد، عدلیہ پر حملے کی کوشش؟


فائل فوٹو

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی جانب سے فیض آباد دھرنے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد جہاں اس فیصلے کو مختلف اداروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے چیلنج کیا جا رہا ہے وہیں فیصلے کو تحریر کرنے والے بینچ کے رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف اور حق میں بھی دلائل اور مباحثے جاری ہیں۔ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ اب وکلاء گروپس بھی اس معاملے پر واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔

پنجاب بار کونسل نے اپنی قرارداد میں کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس فیصلے میں انصاف کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا۔ پنجاب بار کونسل کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے افواج پاکستان کو تضحیک کا نشانہ بنایا ہے اور انٹیلی جینس ایجنسیز پر عائد کیے گئے الزامات سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا بیانیہ مضبوط ثابت ہوتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وفاق فیض آباد دھرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں دائر کرنے میں حق بجانب ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر پنجاب بار کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔

اس قرارداد میں کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جسٹس شوکت صدیقی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے برطرفی سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی کی درخواست کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مکمل پراسرار قرار دیا گیا ہے اور اسے عدالتی احتساب سے متصادم کہا گیا ہے۔

دوسری جانب، سندھ بار کونسل سمیت وکلاء کی پانچ دیگر ایسوسی ایشنز کی جانب سے ایک اور قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں پنجاب بار کونسل کی پیش کردہ اس قرارداد کی بھرپور مخالفت کی گئی ہے۔ اور پنجاب بار کی ایگزیکٹو کونسل کی پیش کردہ قرارداد کو وکلاء کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے قرارداد پر دستخط کنندہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد عاقل نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جان بوجھ کر مذموم مہم چلائی جا رہی ہے۔ اگر کسی کو ان کے فیصلے سے اختلاف ہے تو وہ قانونی راستہ اختیار کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ قرارداد پیش کرنے کا مقصد سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بھرپور حمایت کرنا ہے۔ قرارداد میں انہیں سچ کا علمبردار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چاہے کوئٹہ میں دہشت گردی کا سانحہ کیس ہو یا پھر فیض آباد دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس کیس، انہوں نے ان معاملات پر کسی سے ہدایات لینے سے صاف انکار کیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ قرارداد میں وضاحت کی گئی ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی سے متعلق کراچی بار کی سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی کی درخواست کا مقصد ان الزمات کی تحقیقات کرانا ہے جس میں معزول جج نے کہا تھا کہ خفیہ ایجنسیاں عدالتی معاملات میں مداخلت کرتی ہیں۔ قرارداد میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ بدقسمتی سے جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف کارروائی میں سپریم جوڈیشل کونسل اس نقطے پر تحقیقات نہیں کرا سکی۔

اس قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب بار کونسل کی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف پیش کردہ قرارداد سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ کچھ نامعلوم طاقتیں عدلیہ پر اثر انداز ہونے اور اس پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہیں۔ لیکن وکلاء اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ایسے کسی بھی اقدام کی ہر صورت مزاحمت کی جائے گی۔

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بعض قوتیں وکلاء کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد بہت سی مقتدر قوتیں اس فیصلے سے ناخوش تھیں اور اس فیصلے پر سخت رد عمل کا اظہار کیا جاتا رہا۔

یاسین آزاد ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرنا تمام فریقین کا قانونی حق ہے۔ لیکن انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ دھرنا کیس سے متعلق فیصلہ سنانے والے بینچ میں صرف ایک جج کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بار کونسل کی قرارداد وکلاء کے اتحاد کو تقسیم کرنے کی ایک واضح سازش ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جسٹس شوکت صدیقی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جسٹس شوکت صدیقی

آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم سپریم جوڈیشل کونسل ہی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کے خلاف کسی شکایت کا جائزہ لے کر صدر مملکت کو انہیں ہٹانے کی سفارش کر سکتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے فیض آباد دھرنا کیس اور کوئٹہ میں دہشت گردی سے متعلق ازخود نوٹس کیسز میں جو فیصلے سنائے گئے ہیں وہ برسر اقتدار اور مقتدر قوتوں کو برے تو لگ سکتے ہیں لیکن ان فیصلوں میں بہت سے تلخ حقائق بھی بیان کیے گئے جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کونسل نے پنجاب بار کونسل کی منظور کردہ قرارداد کو کالعدم قرا دے دیا ہے۔ پاکستان بار کونسل نے پنجاب بار کی قرار داد کو غیر ضروری اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف قرار دیا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بغیر کسی ڈر اور خوف کے اپنی عدالتی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں۔ وکلاء برادری آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف کسی بھی اقدام کی ہرگز حمایت نہیں کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG