رسائی کے لنکس

وفاقی حکومت نے 59 کھرب روپے سے زیادہ کا چھٹا بجٹ پیش کر دیا


آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 59 کھرب 32 ارب 50 کروڑ روپے ہے جب کہ دفاع کے لیے 1100 ارب مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ تقریر سے کچھ گھنٹے قبل ہی حلف اٹھانے والے پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح نے جمعہ کو آئندہ مالی سال 2019-2018 کے لیے بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 59 کھرب 32 ارب 50 کروڑ روپے ہے جب کہ دفاع کے لیے 1100 ارب مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف سے پیش کیا جانے والا یہ چھٹا بجٹ ہے۔

آئندہ مالی سال کے دوران تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ جب کہ ہاؤس رینٹ الاوئنس میں 50 فی صد اضافے کو نوید سنائی گئی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے دوران بجٹ خسارہ 4.9 فیصد ہو گا۔

بجٹ میں کئی شعبوں پر ٹیکس کی شرح گھٹائی گئی ہےجب کہ ترقیاقی أمور کے لیے بھاری فنڈز مختص کیے جانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

کراچی کے لیے 25 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس سےیومیہ 50 لاکھ گیلن سمندری پانی کو صاف کرکے استعمال کے قابل بنایا جائے گا۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف مفتاح اسماعیل کی بجٹ تقریر کے دوران شديد احتجاج کیا گیا۔

بجٹ تقریر سے قبل قائد حزب اختلاف خورشيد شاہ نے مفتاح اسماعیل کو پارلیمان کا رکن نہ ہونے کے باوجودا نہیں وزیر خزانہ بنانے پر تنقید کی۔

بجٹ تقریر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی شام تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG