رسائی کے لنکس

چارسدہ: مردم شماری ٹیم پر فائرنگ سے پولیس اہلکار زخمی

  • شمیم شاہد

(فائل فوٹو)

دیگر اہلکاروں کی جوابی فائرنگ میں مسلح حملہ آور بھی زخمی ہو گیا، جسے حراست میں لے لیا گیا۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں مردم شماری کے پہلے مرحلے کے تحت کام جاری ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں منگل کی صبح مردم شماری کے کام میں مصروف ٹیم پر ایک مسلح شخص نے فائرنگ کی، جس سے ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔

موقع پر موجود دیگر اہلکاروں کی جوابی فائرنگ میں مسلح حملہ آور بھی زخمی ہو گیا، جسے حراست میں لینے کے بعد پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

یہ واقعہ چارسدہ کی تحصیل تنگی میں پیش آیا، زخمی حملہ آور کی شناخت فخر عالم کے نام سے ہوئی ہے اور اُس کا تعلق مالاکنڈ ایجنسی سے بتایا گیا ہے۔

چارسدہ میں پولیس کے ایک ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پولیس سجاد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بظاہر ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ جن کی بنیاد پر اسے دہشت گرد کارروائی کہا جائے اور نہ ہی اس حملہ آور کا تعلق فی الحال کسی کالعدم تنظیم سے ثابت ہوا ہے۔

"چند دن پہلے یہی بندہ تھا پولیس نے اسے بغیر اسلحہ لائسنس کے ایک پسٹل رکھنے پر پکڑا تھا پھر جو علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ یہ منشیات وغیر کا بھی عادی تھا۔"

واقعے کے باوجود علاقے میں مردم شماری کی سرگرمی جاری ہے۔

پاکستان میں مردم شماری کے کام میں مصروف ٹیموں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اس ساری مہم کے دوران فوج کے دو لاکھ اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل ملک کے کسی علاقے سے مردم شماری کی ٹیموں پر حملے کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔

دریں اثنا صوبہ خیبر پختونخواہ ہی کے مرکزی شہر پشاور کے مضافات میں انسداد پولیو مہم کی ٹیم پر فائرنگ کی گئی۔

پولیس کے مطابق پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم جاری تھی کہ پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھا بیر کے گاؤں مریم زئی میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح شخص کی فائرنگ سے ایک رضا کار زخمی ہو گیا، جسے پشاور کے اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ملک کے مختلف علاقوں میں اس سے قبل بھی انسداد پولیو ٹیموں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں جن میں درجنوں مرد و خواتین اہلکار ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG