رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ امن معاہدے کے بعد بھی افغانستان میں کردار ادا کرے: پاکستان


پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ کے دورے سے قبل ایران کے دارالحکومت تہران اور سعودی عرب کے درالحکومت ریاض گئے تھے — فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں ممکنہ امن معاہدہ طے پانے کے بعد بھی چیلنجز موجود ہوں گے۔ اس لیے ممکنہ معاہدے کے بعد بھی امریکہ کو افغانستان کی تعمیر نو کے لیے کردار جاری رکھنا چاہیے۔

واشنگٹن میں تھنک ٹینک 'سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز ' (سی ایس آئی ایس) میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے مشرق وسطیٰ، افغانستان سمیت خطے کی صورت حال اور پاکستان امریکہ تعلقات کے بارے میں اظہار خیال کیا۔

شاہ محمود قریشی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے سلسلے میں ایران اور سعودی عرب کے دورے کے بعد امریکہ گئے ہیں۔ انہوں نے امریکی کانگریس اور سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ارکان بشمول ممتاز ریپبلکن سینٹر لنڈسے گراہم سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

واشنگٹن میں 'سی ایس آئی ایس' میں افغانستان میں امن عمل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں امن معاہدہ طے ہونے کے بعد بھی کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔ اس لیے افغانستان سے غیر ملکی فورسز کا انخلا منظم اور مرحلہ وار ہونا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں امن سمجھوتہ طے پانے پر غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد بھی امریکہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کو افغانستان کی تعیمر نو میں اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے سرمایہ کاری اور پیسے کی ضرورت ہوگی۔ بین الاقوامی اعانت کے بغیر ملک کے بنیادی ڈھانچے کو برقرار نہیں رکھا جا سکے گا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغان طالبان نے امریکہ سے امن مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے عارضی جنگ بندی کی پیش کش کی ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے۔

طالبان کی طرف سے اگرچہ باضابطہ طور پر جنگ بندی کی پیش کش کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ تاہم یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بات چیت جاری ہے۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے ٹوئٹر پر ایک مختصر بیان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں جاری بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے جو ان کے بقول کئی دنوں تک جاری رہے گی۔

سہیل شاہین نے کہا کہ فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کرنے اور اس سے متعلق ممکنہ تقریب کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

سہیل شاہین نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کس معاہدے کے بات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سے کسی امریکہ عہدیدار کا بھی اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات گزشتہ سال ستمبر میں اس وقت معطل کر دیے تھے جب فریقین امن معاہدہ طے پانے کے قریب تھے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کا واشنگٹن کا دورہ مشرق وسطی میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئے تنازعے کے عالمی سطح پر مضمرات ہو سکتے ہیں۔

جمعے کو امریکی نشریاتی ادارے 'فاکس نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تہران، ریاض اور واشنگٹن کا دورہ ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے جس کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کم کرنا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کے بقول ایرانی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں کا محور یہی رہا ہے کہ کشیدگی کم کرنا ہر ایک کے مفاد میں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG