رسائی کے لنکس

افغانستان سے اس سال فوجی انخلا متوقع، طاقت کا توازن قائم رکھا جائے گا


افغان صوبے ہلمند کے جنوب مغربی شوراب فوجی کیمپ میں امریکی میرینز کی کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب۔ فائل فوٹو

افغانستان میں سال 2020 کا آغاز ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے منصوبے آگے بڑھانے کے عزم اور ملک میں امریکی لڑاکا فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کے ایک رجحان کے ساتھ شروع ہوا۔ دسمبر میں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی ضروری نہیں کہ طالبان کے ساتھ امن کو کوئی معاہدہ طے ہونے سے منسلک ہو۔

سال 2019 میں افغانستان میں امریکی فوجی عملے کے کم از کم 20 ارکان ہلاک ہوئے تھے جو 2014 کے آخر میں، ملک میں نیٹو کی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے بعد سے ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

یہ ہلاکتیں ایسے میں ہوئیں جب واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے کے مقصد سے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاكرات منعقد کیے جو سال بھر کے بیشتر حصے میں ہونے والے امریکہ کے طویل ترین مذاکرات تھے۔

ستمبر 2019 کے اوائل میں واشنگٹن کے امن کے سفیر زلمے خلیل زاد نے اعلان کیا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں اہم پیش رفت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر معاہدے میں بیان کی گئی شرائط آگے چلتی ہیں تو ہم 135 دنوں میں پانچ امریکی فوجی اڈے چھوڑ دیں گے جہاں ہماری فورسزموجود ہیں۔

اس کے کئی روز بعد صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ واشنگٹن میں طالبان کے ایک وفد سے ملیں گے لیکن اس کے چند روز بعد انہوں نے طے شدہ مذاكرات منسوخ کر دیے۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے چند روز قبل امن مذاكرات طے کیے تھے۔ لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے پورٹی ریکو سے تعلق رکھنے والے ایک عظیم امریکی فوجی اور 11 بے گناہ لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے تو میں نے انہیں منسوخ کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس حملے کو اپنی طاقت کے اظہار کے طور پر استعمال کریں گے، لیکن اصل میں انہوں نے سخت کمزوری کا مظاہرہ کیا ہے۔ گزشتہ چار روز میں ہم نے دشمن پر اس قدر کاری وار کیا ہے جتنا اس سے پہلے ان پر کبھی نہیں کیا گیا تھا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

نومبر کے آخر میں صدر ٹرمپ نے افغانستان میں امریکی فوجیوں سے ملاقات کی۔ افغانستان میں لگ بھگ 12 ہزار امریکی فوجی ہیں لیکن صدر کہتے ہیں کہ امریکی فوجیوں کے انخلا سے خطے میں امریکی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے فوجیوں کی تعداد میں نمایاں کمی کریں گے لیکن چونکہ وہاں تمام ہتھیار اور اسباب موجود ہیں، اس لیے ہم پہلے سے کم فوجیوں کے ساتھ بھی اصل میں پہلے سے زیادہ نقصان کر سکتے ہیں۔

اس کے چند روز بعد امریکی وزیر دفاع مارک ایسبر نے کہا کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ سیاسی تصفیہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔ لیکن ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہم کوئی اچھا معاہدہ کریں اور اس حد تک اچھا معاہدہ کریں جو کم از کم یہ ضمانت دے کہ ہمارے ملک کی سلامتی، افغان عوام کے لیے ایک روشن راستہ لائے گی نہ کہ وہ مشکل راستہ جس پر ہم اس وقت ہیں۔

فوجیوں کی ممکنہ واپسی کی خبر کے دوران امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کابل میں افغان صدر غنی اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی اور کہا کہ طالبان پر دہشت گردی کی ایک قابل اعتماد فورس کے طور پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ افغانستان میں ہماری موجودگی جاری رہے گی اور ہمارا مقصد اپنی فورسز کا ایسے حالات کے تحت انخلا ہے جو انخلا کی ضمانت دیں گے۔

ایک اور امریکی قانون ساز مائیکل والٹز فکر مند ہیں کہ طالبان افغانستان میں جنگ کے حقییقی معنوں میں خاتمے کی نسبت معاہدے کا اعلان کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک بڑی فکر یہ ہے کہ اس وقت طالبان امن کے اس معاہدے کو فتح کے ایک پراپیگنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم جیت چکے ہیں، یہ کہ ہم امریکیوں پر سبقت لے گئے ہیں۔ طالبان قیادت اپنے جنگجوؤں کو بتا رہی ہے کہ صرف چند مزید برسوں میں تمام امریکی واپس جا چکے ہوں گے۔

لیکن سال 2019 کے آخری دو ہفتوں میں جب کہ امریکہ اور طالبان کوئی معاہدہ طے کرنے میں ناکام رہے، ٹرمپ انتظامیہ نے یہ اعلان کرنا شروع کر دیا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی اب طالبان کے ساتھ کسی معاہدے سے منسلک نہیں ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کو توقع ہے کہ مستقبل قریب میں افغانستان سے لگ بھگ چار ہزار فوجیوں کی واپسی کے منصوبوں کا اعلان کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG