رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی وزیرِ خارجہ روس کے دورے پر


حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام ہی شعبوں میں تعاون میں بتدریج بہتری آئی ہے جب کہ مختلفوں سطحوں پر پاکستانی اور روسی عہدیداروں نے ایک دوسرے کے ممالک کے دورے بھی کیے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ محمد آصف اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کی دعوت پر پیر سے ماسکو کا دورہ کر رہے ہیں جو 22 فروری تک جاری رہے گا۔

دورے کے دوران دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سے متعلق تمام اُمور کے علاوہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی اُمور پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس دورے سے سیاسی، معاشی اور تجارتی اُمور کے علاوہ سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا موقع ملے گا۔

حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام ہی شعبوں میں تعاون میں بتدریج بہتری آئی ہے جب کہ مختلفوں سطحوں پر پاکستانی اور روسی عہدیداروں نے ایک دوسرے کے ممالک کے دورے بھی کیے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھی پاکستان اور روس کے وزارئے خارجہ کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔

تجزیہ کار امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں پیدا ہونے والی سرد مہری کے بعد پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کو خاصی اہمیت دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی اُمور کے تجزیہ کار قمر چیمہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان متبادل اتحادیوں کی تلاش میں ہے اور اسی لیے اس کا جھکاؤ روس کی جانب بڑھا ہے۔

’’روس افغانستان میں بھی متحرک ہے تو افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی جو پالیسی ہے اس میں بھی روس پاکستان کی مدد کرے گا۔‘‘

ماسکو اور اسلام آباد کے تعلقات میں 2014ء کے بعد سے نمایاں بہتری آئی ہے۔

2017 میں پاکستان اور روس کی مشترکہ مشقیں ہوئی تھیں
2017 میں پاکستان اور روس کی مشترکہ مشقیں ہوئی تھیں

اسی سال روس نے پاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھا لی تھی جس کے بعد روس نے پاکستان کو لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط بھی کیے تھے۔

دونوں ملکوں کے درمیان 2016ء اور 2017ء میں مشترکہ فوجی مشقیں بھی ہو چکی ہیں جب کہ گزشتہ سال پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی روس کا دورہ کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG