رسائی کے لنکس

logo-print

'امریکی صدر جس شخص کی فون کال کے منتظر ہیں، وہ عمران خان ہیں'


شاہ محمود قریشی کے مطابق پاکستان نے فیصلہ کیا کہ ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ ان حالات میں یہ خطہ نئی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت جس شخص کی ٹیلی فون کال کا سب سے زیادہ انتظار کر رہے ہیں وہ وزیرِ اعظم عمران خان ہیں۔

اُن کے بقول، وزیرِ اعظم عمران خان کے مصالحتی دوروں کے بعد ایران اور سعودی عرب میں جنگ کے بادل چھٹتے جا رہے ہیں۔

بدھ کو اسلام آباد میں ایران اور سعودی عرب کے دوروں کے حوالے سے پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کے دونوں برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ایسے واقعات ہوئے جس سے تناوٴ میں اضافہ ہو ا اور خطے کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر وزیر اعظم نے از خود ایک قدم اٹھایا۔ پاکستان نے فیصلہ کیا کہ ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ ان حالات میں یہ خطہ نئی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اگر حالات بگڑتے ہیں تو نہ صرف دو ممالک یا خطہ بلکہ تمام دنیا متاثر ہوتی ہے۔ ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے ایران جانے کا فیصلہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی ایرانی قیادت سے نشستیں ہوئیں جو انتہائی بہتر ماحول میں ہوئیں۔ ایرانی رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ سعودی عرب سے عداوت نہیں رکھتے اور براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسی سوچ کو لے کر ہم سعودی عرب گئے اور وہاں اعلیٰ قیادت سے نشستیں کیں۔ اب ان دوروں کے بعد ہمیں جنگ کے بادل چھٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حالیہ دورہ سعودی عرب میں مختلف امور پر بات چیت ہوئی ہے اور یمن میں جنگ بندی کے جو امکانات اس وقت ہیں ماضی میں ایسے کبھی نہ تھے۔

کشمیر کی صورتحال

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ کی ہمشیرہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہاں جانے والی انسانی حقوق کی خواتین کی رپورٹ سامنے آ چکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو اندازہ نہیں کہ وہ کس حد تک کشمیریوں کو ناراض کر چکا ہے۔

وزیر خارجہ نے کرتار پور راہداری کے افتتاح یا مستقبل قریب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا جا رہا ہے۔ پاکستان دنیا کو قائل کر رہا ہے کہ ہم نے مناسب اقدامات اور اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماد اظہر کی سربراہی میں ٹیم بہترین کام کر رہی ہے اور ایف اے ٹی ایف کے معاملے میں گزشتہ دس ماہ میں جتنا کام ہوا ہے اتنا گزشتہ دس سالوں میں نہیں ہوا۔

شاہ محمود قریشی نے امید ظاہر کی کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی 'گرے لسٹ' سے نکل جائے گا حالانکہ بھارت نے اپنی پوری کوشش کی کہ کسی بھی طرح پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے حال ہی میں ایک ملک کا دورہ کیا۔ اس دورے کا ایک نکاتی ایجنڈا یہ تھا کہ پاکستان کی حمایت نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بھارت ماضی میں چین سے مایوس لوٹا اس ملک سے بھی مایوس لوٹے گا۔

تحریک انصاف کور کمیٹی اعلانات

مولانا فضل الرحمان کے 'آزادی مارچ' کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ سیاسی معاملات سیاسی طریقے سے حل ہوں۔

اُن کے بقول، وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو فضل الرحمان سے ملاقات کرے گی اور ان سے رابطے کرے گی۔ کمیٹی فضل الرحمان کی بات سنے گی اور اگر کوئی معقول مطالبہ ہوا تو ضرور پورا کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا قانون واضح کرتا ہے کہ ملیشیا تیار کرنے کی اجازت کسی کو نہیں ہو گی اور کسی گروہ کو مسلح ہو کر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ لٹھ برداری کی جمہوریت میں گنجائش نہیں ہوتی۔ جمہوریت میں مختلف فورمز ہوتے ہیں جہاں بات کی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG