رسائی کے لنکس

امریکہ کی نئی افغان حکمتِ عملی کے اعلان کے بعد دوطرفہ تعلقات میں آنے والے تناؤ کے بعد وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کا امریکہ کا یہ پہلا دورہ ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف منگل کو تین روزہ دورے پر امریکہ روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اُمور کے علاوہ افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی امریکی پالیسی پر بات چیت کریں گے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طویل مشاورتی عمل کے بعد اگست کے اواخر میں افغانستان اور خطے سے متعلق اپنی انتظامیہ کی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ امریکہ پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔

پاکستان نے امریکی صدر کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی گئی اور عسکریت پسندوں کے منظم ڈھانچے تباہ کر دیے گئے ہیں۔

افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی امریکی پالیسی میں پاکستان کو ہدفِ تنقید بنانے کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں قدرے سرد مہری ہے اور بعض اعلیٰ حکام کے طے شدہ دورے بھی موخر کیے گئے ہیں۔

دوطرفہ تعلقات میں قدرے تناؤ کے بعد وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کا امریکہ کا یہ پہلا دورہ ہے۔

اس سے قبل وہ ستمبر کے اواخر میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک گئے تھے جہاں اُنھوں نے کئی امریکی اداروں کی طرف سے منعقدہ تقاریب میں بھی شرکت کی اور پاکستان کا موقف پیش کیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس سے بھی ملاقات کی تھی۔

توقع ہے کہ اپنے دورے کے دوران خواجہ آصف امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن کے علاوہ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل میک ماسٹر سے بھی ملاقات کریں گے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے گزشتہ ہفتے ہی کہا تھا کہ نیویارک میں پاکستان کے وزیرِ اعظم اور امریکی نائب صدر کے درمیان ہونے والی ملاقات مثبت رہی تھی اور اس سے غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد ملی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG