رسائی کے لنکس

logo-print

خواجہ آصف کے بیانات سے پاکستان کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، قائمہ کمیٹی


علی رانا

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے حقانی نیٹ ورک اور کالعدم تنظیموں سے متعلق سیمینار میں خطاب پر تنقید کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں انہیں طلب کرلیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس نو منتخب چیئرمین خسرو بختیار کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شیریں مزاری سمیت کئی اراکین وزیر خارجہ کے حقانی نیٹ ورک اور کالعدم تنظیموں سے متعلق دیئے گئے بیان پر پھٹ پڑے اور کہا کہ خواجہ اصف کے بیانات سے پاکستان کے لیے مزید مسائل بڑھائیں گے۔

اراکین کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے اور وضاحت مانگی جائے، کیونکہ وہ جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں وہ امریکی پالیسی کو ماننے کے مترادف ہے۔

شیریں مزاری بولیں وزیر خارجہ سے کالعدم تنظیموں کے معاملے پر بریفنگ لی جائے ۔ خواجہ آصف سے کلبھوشن یادیو اور نئی امریکی پالیسی سے متعلق بھی پوچھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، لیکن امریکہ کے’ ڈو مور‘کے مطالبے اور اپنا گھر ٹھیک کرنے کو درست قرار دینا مسلح افواج کی دہشت گردی کے خلاف ان قربانیوں کی نفی ہے۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ملک کا وزیر خارجہ کا ہی اگر پالیسی کے خلاف بیان دے گا تو دشمن کی ضرورت نہیں، پتا نہیں وزیر خارجہ کن کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG