رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی خوش آئند ہے: پاکستان


پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ طالبان اور امریکہ کی بات آگے بڑھے اور اس سلسلے میں اسلام آباد اپنا کردار ادا کرے گا۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ کا اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کر کے طالبان کے ساتھ مل بیٹھنا خوش آئند اور افغانستان سے کچھ فوجی دستے واپس بلانے کا اعلان اہم پیش رفت ہے۔

ہفتے کو ملتان میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ طالبان اور امریکہ کی بات آگے بڑھے اور اس سلسلے میں اسلام آباد اپنا کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں افغان طالبان کے کچھ لوگوں کو رہا کیا ہے جس کا مقصد بھی بات چیت کے لیے ماحول کو سازگار بنانا تھا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے پاکستان نے پہلے بھی کوشش کی اور آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔

لیکن ان کے بقول اس بارے میں بنیادی فیصلہ خود افغانوں نے کرنا ہے کہ وہ مل بیٹھ کر ایک دوسرے کی بات سنیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ انہوں نے مل بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف امریکہ نے بھی افغانستان سے متعلق اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کی ہے جس کے بعد افغان طالبان اور امریکیوں کچھ نشستیں ابوظہبی میں ہوئی ہیں اور توقع ہے کہ ان کی بات آگے بڑھے گی۔

افغانستان سے سات ہزار امریکی فوجی واپس بلانے کی اطلاعات پر وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی فوجوں کا انخلا صدر ٹرمپ کی پالیسی کا حصہ ہے جس کا وہ ماضی میں کئی بار اظہار کرچکے تھے۔

انہوں نے کہا، "افغان طالبان کی بھی خواہش تھی کہ انہیں امریکی فوج کے انخلا کا عندیہ ملے۔ بہر حال یہ اہم پیش رفت ہے۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان جو کردار ادا کر سکتا ہے، وہ کرے گا۔ ہم نے کچھ لوگوں کو یہاں رہا کیا ہے جس کا مقصد اس ماحول کو سازگار بنانا ہے۔"

وزیرِ خارجہ کے اس بیان اور خطے کی صورتِ حال پر اسلام آباد میں موجود افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی حسن خان نے اردو وی او اے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کا مثبت کردار نظر آ رہا ہے جسے افغانستان کے سیاسی رہنما اور دانشور طبقہ بھی سراہ رہے ہیں۔

ان کے بقول امریکہ اور طالبان کے متحدہ عرب امارات میں مذاکرات ایک بڑی کامیابی ہے اور ماضی کی نسبت اس بار پاکستان کی افغان پالیسی بہتر نظر آ رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "میرے خیال میں پاکستان اس بار درست کر رہا ہے۔ ماضی میں ہم نے افغانستان میں امن کے لیے مداخلت کی۔ اپنا حصہ لینے اور اپنے لوگوں کو اس میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس بار ہم ان کی مدد کر رہے ہیں کہ افغان خود بیٹھیں۔ اسی وجہ سے امریکہ نے فوج کے انخلا کی بات کی۔ قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ بھی چل رہا ہے اور طالبان کی نقل و حرکت میں بھی کچھ نرمی نظر آ رہی ہے۔"

ہفتے کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال پر مخدوم شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات کے طرف سے تین ارب ڈالر کے پیکج کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای کے ساتھ بھی پاکستان کے معاملات میں بہت بہتری آئی ہے اور آئندہ سال جنوری کے پہلے ہفتے میں امارات کے ولی عہد کے پاکستان آنے پر مزید خوش خبریاں ملیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG