رسائی کے لنکس

پاکستان، قدرتی جنگلات میں سالانہ ستائیس ہزار ہیکٹر کمی


پاکستان، قدرتی جنگلات میں سالانہ ستائیس ہزار ہیکٹر کمی

ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے ورلڈ وائڈ فنڈ کے نمائندے اعجاز احمد نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں سالانہ کمی کی ایک اہم وجہ ترقیاتی منصوبوں کے تحت تعمیرات اور ملکی آبادی کے ایک بڑے حصے کا ایندھن کے لیے لکڑی پر انحصار ہونا ہے۔

ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں قدرتی جنگلات کے رقبے میں ہر سال ستائیس ہزار ہیکٹر کی کمی ہو رہی ہے جو ایک نہایت تشویشناک امر ہے کیونکہ درختوں کا کٹاو آلودگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ انسانی زندگیوں اور جنگلی حیات کو بہت متاثر کر رہا ہے۔

سرکاری اندازے کے مطابق پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ تقریبا 5.2 فیصد ہے جس میں چالیس فیصد سرکاری جب کہ ساٹھ فیصد نجی ملکیت ہے۔

اتوار کو اسلام آباد میں منعقد تقریب کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے ورلڈ وائڈ فنڈ کے نمائندے اعجاز احمد نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں سالانہ کمی کی ایک اہم وجہ ترقیاتی منصوبوں کے تحت تعمیرات اور ملکی آبادی کے ایک بڑے حصے کا ایندھن کے لیے لکڑی پر انحصار ہونا ہے۔

سرکاری اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں سینتیس فیصد خاندانوں کا ایندھن کے لیے لکڑی پر انحصار ہے اور اگر درختوں کی کٹائی کو روکنا ہے تو ضروری ہے کہ ان خاندانوں کو ایندھن کے متبادل ذرائع فراہم کیے جائیں۔

وفاقی وزارت ماحولیات کے ایک عہدیدار شہزاد جہانگیر نے بتایا کہ ملک میں لکڑی کی سالانہ ضرورت تقریبا چار کروڑ تیس لاکھ کیوبک میٹر جب کہ پیداوار ایک کروڑ چالیس لاکھ کیوبک میٹر ہے۔

سالانہ دو کڑوڑ نوے لاکھ کیوبک میٹر لکڑی کی کمی کا سامنا ہے جسے پورا کرنے کے لیے درخت کاٹے جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ حکام کے مطابق یہ ہے کہ شجر کاری کے باوجود بھی گذشتہ کئی دہائیوں سے جنگلات کا رقبہ تقریبا پانچ فیصد ہی ہے۔

تاھم شہزاد جہانگیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے 2015ء تک جنگلات کا رقبہ چھے فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور ان کے مطابق اٹھارھویں آئینی ترمیم کے تحت وزارت ماحولیات صوبوں کو منتقل ہونے سے منصوبے پر مزید موثر انداز میں عمل درآمد ہو سکے گا۔

’’ اس وقت ہم سالانہ دس کروڑ پودے لگا رہے ہیں جن میں سے پانچ کروڑ قائم درخت بنتے ہیں جب کہ باقی ضائع ہو جاتے ہیں‘‘

ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے آئی سی یو این کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ملکوں میں ہوتا ہے جو موسمی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں اور اس کی ایک مثال گذشتہ سال آنے والا تباہ کن سیلاب ہے۔

ماہرین کے مطابق جنگلات موسمی تبدیلیوں کے مضر اثرات خاص طور پر سیلاب سے بچاؤ کا اہم ذریعہ ہیں اور پاکستان میں نا صرف جنگلات کے کٹاو کو روکنے بلکہ عوام کے تعاون سے وسیع پیمانے پر شجرکاری کی بھی اشد ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG