رسائی کے لنکس

سال 2019 کے اختتام پر ملک بھر میں شدید سردی کا آغاز

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کے تمام شہر اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ مختلف علاقوں میں شدید دھند کے سبب جہاں معمولات زندگی متاثر ہیں، وہیں گزشتہ چند روز سے فلائٹس اور ٹرینیں بھی تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق رواں سال موسم سرما کے آغاز سے ہی درجۂ حرارت کا جو ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال زیادہ سردی پڑ رہی ہے۔

ملک بھر میں سردی کی صورتِ حال

محکمۂ موسمیات (میٹ) کے ڈائریکٹر میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق ملک کے کئی علاقے بالخصوص گلگت بلتستان، استور، چلاس، اسکردو، دیر، پارا چنار، پشاور، کوئٹہ وغیرہ شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔

گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں کا درجۂ حرارت جو اس مہینے کے عمومی درجۂ حرارت سے منفی چار سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہیں۔ وہیں دوسری طرف کراچی میں اتوار کو اس موسمِ سرما کا سب سے کم درجۂ حرارت 9.2 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔

تصاویر: برف باری کے بعد مری کی رونق میں اضافہ

مری میں ہونے والی حالیہ برف باری سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
1/10 مری میں ہونے والی حالیہ برف باری سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
مزید Show less
مری کے راستے سیاحوں کی آمد کے باعث ٹریفک کے دباؤ کا شکار ہیں۔
2/10 مری کے راستے سیاحوں کی آمد کے باعث ٹریفک کے دباؤ کا شکار ہیں۔
مزید Show less
برف باری کے بعد وادی مری میں درختوں نے جیسے سفید چادر اوڑھ لی ہے۔
3/10 برف باری کے بعد وادی مری میں درختوں نے جیسے سفید چادر اوڑھ لی ہے۔
مزید Show less
موسم کی شدت نے مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کی ہیں۔
4/10 موسم کی شدت نے مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کی ہیں۔
مزید Show less
لیکن اس کے باوجود ملک بھر کے میدانی علاقوں سے لوگ اپنے اہلِ خانہ سمیت برف باری دیکھنے کے لیے مری کا رخ کر رہے ہیں۔
5/10 لیکن اس کے باوجود ملک بھر کے میدانی علاقوں سے لوگ اپنے اہلِ خانہ سمیت برف باری دیکھنے کے لیے مری کا رخ کر رہے ہیں۔
مزید Show less
ٹھنڈے ٹھار موسم میں آسمان سے گرنے والے برف کے گالوں نے ہر طرف حسن بکھیر دیا ہے۔
6/10 ٹھنڈے ٹھار موسم میں آسمان سے گرنے والے برف کے گالوں نے ہر طرف حسن بکھیر دیا ہے۔
مزید Show less
برف باری کی وجہ سے مری میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
7/10 برف باری کی وجہ سے مری میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
مزید Show less
مری کی طرف آنے والی مرکزی سڑک اور شہر کی کئی شاہراہوں پر سیاحوں کی گاڑیاں برف میں پھنسی رہیں۔
8/10 مری کی طرف آنے والی مرکزی سڑک اور شہر کی کئی شاہراہوں پر سیاحوں کی گاڑیاں برف میں پھنسی رہیں۔
مزید Show less
لیکن برف باری کے باوجود مال روڈ کی رونقیں ماند نہیں پڑی ہیں۔
9/10 لیکن برف باری کے باوجود مال روڈ کی رونقیں ماند نہیں پڑی ہیں۔
مزید Show less
10/10
مزید Show less
Previous slide
Next slide

سردی کا فصلوں پر کیا اثر ہوگا؟

ڈائریکٹر میٹ سردار سرفراز کے مطابق معمول سے زیادہ سردی ہو تو اس کا اثر فصلوں پر بھی ہوتا ہے۔ ان کے بقول اس موسم میں جہاں کئی علاقوں میں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بھی نیچے ہے، ایسے میں فصلوں کو جتنی حدت اور دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے وہ نہیں مل پاتی۔

سردار سرفراز نے بتایا کہ انہی وجوہات کی بنا پر فوٹو سینتھیسس کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے اور فصلوں کو نقصان پہنچنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان، دیر، چترال، بالا کوٹ اور پشاور کو معمول سے زیادہ سردی کا سامنا ہے۔ تو ان علاقوں میں موسم سرما کی فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب جامعہ کراچی کے شعبۂ ماحولیات کے ڈاکٹر وقار احمد کے مطابق موسم سرد ہو یا گرم دونوں ہی موسمی فصلوں کے لیے اہم ہیں۔ لیکن اس سے انکار نہیں کہ سیلاب اور برف باری فصلوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔

کیا کراچی میں اس بار سردی زیادہ ہو گی؟

محکمۂ موسمیات کے مطابق کراچی میں رواں سال اب تک کا سب سے کم درجۂ حرارت 9.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ گزشتہ برس سب سے کم درجۂ حرارت 9.8 ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں جنوری میں ٹھنڈ مزید بڑھے گی اور فروری تک یہ لہر برقرار رہے گی۔ اس دوران کراچی میں ایران کے راستے سے سرد ہوائیں داخل ہوں گی۔

کیا شدید سردی موسمیاتی تبدیلی کے سبب ہے؟

پاکستان سمیت دنیا بھر کو اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں درجۂ حرارت میں حیرت انگیز تبدیلیوں کی وجہ صنعتی ترقی اور ماحول میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔

ڈاکٹر وقار احمد کے مطابق ملک بھر میں اس طرح کے موسم کا آنا یقینی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے۔ ان کے نزدیک اس کی وجہ جنگلات میں کمی، ان کی کٹائی اور کاربن گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل سے نہ صرف ایکو سسٹم کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ساحلی علاقوں میں تعمیرات اور جنگلات کی کٹائی کا سب سے زیادہ نقصان ماہی گیروں کو ہو گا۔

ڈاکٹر وقار کے مطابق اگر یہ عمل جاری رہا تو آنے والے وقت میں فشریز کا شعبہ بھی متاثر ہوگا۔

تصاویر: وادی سوات نے بھی برف کی چادر اوڑھ لی

کالام میں درجہ حرارت کم سے کم منفی تین ہے۔
1/11 کالام میں درجہ حرارت کم سے کم منفی تین ہے۔
مزید Show less
برف باری کے بعد وادی سوات شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔
2/11 برف باری کے بعد وادی سوات شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔
مزید Show less
سوات کی حسین وادی برف کی سفید چادر اوڑھ کر اور بھی دلکش لگ رپی ہے۔
3/11 سوات کی حسین وادی برف کی سفید چادر اوڑھ کر اور بھی دلکش لگ رپی ہے۔
مزید Show less
حسین نظاروں کو دیکھنے ملک بھر سے سیاح پہنچ رہے ہیں۔
4/11 حسین نظاروں کو دیکھنے ملک بھر سے سیاح پہنچ رہے ہیں۔
مزید Show less
سوات کے علاقہ کالام میں شدید برف باری کے بعد وادی کے حسن کو چار چاند لگ گئے۔
5/11 سوات کے علاقہ کالام میں شدید برف باری کے بعد وادی کے حسن کو چار چاند لگ گئے۔
مزید Show less
ایک درخت پر برف روئی کے گالوں کی طرح نظر آ رہی ہے۔
6/11 ایک درخت پر برف روئی کے گالوں کی طرح نظر آ رہی ہے۔
مزید Show less
جدھر بھی نظر اٹھتی ہے برف ہی دکھائی دیتی ہے۔
7/11 جدھر بھی نظر اٹھتی ہے برف ہی دکھائی دیتی ہے۔
مزید Show less
سوات کا مشہور اور تاریخی ہوٹل ؤائٹ پیلس بھی برف سے ڈھکا ہوا ہے۔
8/11 سوات کا مشہور اور تاریخی ہوٹل ؤائٹ پیلس بھی برف سے ڈھکا ہوا ہے۔
مزید Show less
جدھر بھی نظر اٹھتی ہے برف ہی دکھائی دیتی ہے۔
9/11 جدھر بھی نظر اٹھتی ہے برف ہی دکھائی دیتی ہے۔
مزید Show less
کالام اور مالم جبہ تک جانے کے راستے کھلے ہیں۔
10/11 کالام اور مالم جبہ تک جانے کے راستے کھلے ہیں۔
مزید Show less
کالام میں اب تک تین فٹ برف ریکارڈ کی چکی ہے۔
11/11 کالام میں اب تک تین فٹ برف ریکارڈ کی چکی ہے۔
مزید Show less
Previous slide
Next slide

2019 موسمیاتی تبدیلی کا سال رہا

محکمۂ موسمیات کے مطابق رواں برس کراچی سمیت دیگر ساحلی علاقوں نے پانچ مختلف طوفانوں کا سامنا کیا۔ شمالی بحیرۂ عرب میں چار سے پانچ ٹروپیکل سائیکلون گزرے جس میں سے ایک کیار نامی طوفان 2007 کے بعد سب سے زیادہ طاقتور سائیکلون رہا۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق اس برس غیر معمولی بارشیں بھی ہوئیں جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 87 فی صد زیادہ تھیں۔

ڈائریکٹر میٹ سردار سرفراز کے مطابق یہ سب واقعات موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دیے جا سکتے ہیں اور اس کا براہ راست اثر ہمارے علاقوں میں پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب جو درجۂ حرارت میں تبدیلیاں، بارشیں، سیلاب اور طوفان سامنے آ رہے ہیں وہ معمولات سے ہٹ کر ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کا ہی شاخسانہ ہیں۔

  • 16x9 Image

    سدرہ ڈار

    Sidra Dar is a multimedia journalist based in Karachi, Pakistan.

This item is part of
​
XS
SM
MD
LG