رسائی کے لنکس

نئی قانون سازی کے باوجود ’غیرت کے نام پر‘ قتل کے واقعات جاری


غیرت کے نام پر قتل

’ایچ آر سی پی‘ کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2016ء سے رواں سال جون تک پاکستان میں 280 خواتین غیرت کے نام پر قتل کی گئیں۔

پاکستان میں پسند کی شادی یا بعض دیگر نام نہاد وجوہات کی بنیاد پر لڑکیوں اور خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے خلاف گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستانی پارلیمان نے ایک نیا قانون منظور کیا تھا۔

نئے قانون میں نہ صرف خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی تھیں بلکہ ایسے جرائم کا نشانہ بننے والوں کے ورثا کا مجرم کو معافی دینے کا اختیار بھی ختم کر دیا گیا تھا۔

اس قانون سازی سے قبل قتل کی جانے والی خواتین کے ورثا عموماً قاتل کو معاف کر دیتے تھے کیوں کہ قتل کرنے والے بھی اکثر اوقات خاندان ہی کا حصہ ہوتے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کا سلسلہ ملک میں نہیں رکا اور اب بھی فرسودہ سوچ کے سبب اپنے رشتہ داروں کے ہاتھوں لڑکیوں اور خواتین کو پسند کی شادی یا محض کسی مرد سے تعلق کے شبہے میں ’غیرت‘ کے نام پر جان سے مار دیا جاتا ہے۔

نئی قانون سازی کے باوجود اس نوعیت کے مقدمات کو جلد نہ نمٹانے کا معاملہ بھی کئی حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے۔

قندیل بلوچ
قندیل بلوچ

سوشل میڈیا سے شہرت پانے والی ماڈل قندیل بلوچ کو گزشتہ سال جولائی میں اُن کے بھائی نے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کر دیا تھا۔ اگرچہ ملزم نے ابتدائی بیان میں اعترافِ جرم کر لیا تھا لیکن تاحال اس کیس کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔

حال ہی میں قندیل بلوچ کے مقدمۂ قتل میں ایک مذہبی شخصیت مفتی عبدالقوی کو بھی گرفتار کیا گیا، جن کی عدالت میں پیشی کے خبریں آئے روز ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی ہیں۔

قندیل بلوچ کے والد کا موقف رہا ہے کہ مفتی عبدالقوی کے اکسانے پر اُن کی بیٹی کو قتل کیا گیا۔ تاہم عبدالقوی ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ قندیل بلوچ نے جون 2016ء میں مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی سے ایک ملاقات کے دوران بنائی گئی وڈیوز اور تصاویر کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری کیا تھا، جس کی وجہ سے کئی دنوں تک اس معاملے کا میڈیا پر چرچا رہا اور مفتی عبدالقوی کو بھی خفت اٹھانی پڑی تھی۔

انسانی حقوق کے ایک غیر جانب دار ادارے ’ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ یعنی ’ایچ آر سی پی‘ کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2016ء سے رواں سال جون تک پاکستان میں 280 خواتین غیرت کے نام پر قتل کی گئیں۔

تاہم باور کیا جاتا ہے کہ اصل میں یہ تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حقوقِ نسواں کمیشن کی چیئرپرسن فوزیہ وقار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ قانون سازی کے باوجود لڑکیوں اور خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ معاشرے میں عورتوں کے حقوق کو تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔

’’عورت کو ایک خودمختار انسان ہونے کا حق ابھی تک حاصل نہیں ہے، جو اپنے فیصلے خود کر سکے۔۔۔۔ شادی خاص طور پر ایک ایسا فیصلہ ہے جس کا قانون اور آئین عورت کو حق دیتے ہیں۔ (جب خاتون اس معاملے میں اپنی رضا کا استعمال کرتی ہے) تو غیرت کے نام پر اس حق کو پامال کیا جاتا ہے اور پھر قتل تک نوبت پہنچتی ہے۔‘‘

فوزیہ وقار کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے معاشرے کی سوچ اور رویوں کو بدلنے کی کوشش کرنا ہو گی۔

’’سرکاری ادارے جن کا کام انصاف مہیا کرنا ہے، اُن کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ غیرت کے نام پر قتل ایسے جرائم کا سدباب لازمی ہے تاکہ معاشرے میں جو تبدیلی ہم دیکھنا چا رہے ہیں وہ وقت پر آ جائے۔۔۔۔ قانون کا اطلاق کرنا بھی بہت ضروری ہے۔‘‘

پاکستان میں غیر ت کے نام پر قتل میں زیادہ تر نوجوان لڑکیاں اور خواتین نشانہ بنتی رہی ہیں۔ تاہم بعض اوقات مردوں کو بھی اس میں جان سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں لیکن ایسے واقعات کی تعداد بہت کم ہے۔

سرکاری ادارے 'قومی کمیشن برائے انسانی حقوق' کے تحت اب ایک منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے جس میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کے اسباب اور وجوہات کو جاننے کے لیے سائنسی بنیادوں پر صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG