رسائی کے لنکس

پاکستان سمیت افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی بیٹھک، کابل حکومت سے تعاون پر زور


پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے طالبان کی طرف سے عبوری حکومت کے اعلان پر ردِعمل دینے سے گریز کرتے ہوئے افغانستان میں سیاسی استحکام کی امید ظاہر کی ہے۔

افغانستان کی صورتِ حال پر بدھ کو اسلام آباد کی میزبانی میں ہونے والی ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کی صورتِ حال سے متعلق حقیقت پسندی اور زمینی حقائق کے مطابق آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

ان کے بقول ہماری کوششوں کا محور افغان عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری ہونا چاہیے جو افغانستان میں گزشتہ 40 برس سے جاری عدم استحکام سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

بدھ کو پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی ورچوئل کانفرنس میں چین، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

یہ ورچوئل کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منگل کو افغان طالبان نے اپنی عبوری حکومت کا اعلان کیا تھا۔

افغان اُمور کے تجزیہ کار طاہر خان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برداری کے مطالبات کے باوجود طالبان کی طرف سے نئی حکومت بظاہر ایک جامع اور وسیع البنیاد حکومت نہیں ہے اور طالبان کی حکومت میں شامل ہونے والے طالبان رہنما وہ ہیں جو ایک عرصے سے طالبان تحریک کا حصہ تھے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر خان کا مزید کہنا تھا کہ بعض ممالک یہ کہتے رہے ہیں کہ طالبان کی طرف سے اسلامی امارات کی بحالی انہیں قبول نہیں ہو گی، لیکن اس کے باوجود طالبان نے اس بات کو بھی قبول نہیں کیا۔

طاہر خان کا کہنا ہے کہ طالبان سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے بزور طاقت کابل کا کنٹرول حاصل کیا ہے۔ لہذٰا وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔

البتہ طاہر خان کے بقول ایسی حکومت کے ذریعے افغانستان کے سیاسی نظام کو چلانا اتنا آسان نہیں ہو گا۔

کیا بین الاقوامی برادری طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کر ے گی؟

طاہر خان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری افغانستان کی صورتِ حال کو قریب سے دیکھ رہی ہے اور اسے طالبان کی طرف سے ان کے اپنے لوگوں پر مشتمل عبوری حکومت کے اعلان پر بظاہر مایوسی ہوئی ہے۔ لیکن دوسری جانب طاہر خان کا کہنا ہے کہ طالبان خود اپنے آپ کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے والے معاملے کو مشکل بنا رہے ہیں۔

طاہر خان کا کہنا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کو اگرچہ طالبان کے حالیہ اقدامات پر مایوسی ہوئی ہے لیکن دنیا محتاط انداز میں ردِعمل کا اظہار کرے گی۔

لیکن ان کے بقول افغانستان کی صورتِ حال اس وقت پیچیدہ ہے اور اگر بین الاقوامی برادری طالبان کے ساتھ روابط نہیں رکھے گی تو افغانستان کے تنہا رہ جانے کا خدشہ موجود ہے۔

طاہر خان کا کہنا ہے کہ دوسری جانب بین الاقوامی برداری بشمول امریکہ، روس، چین اور دیگر ممالک کے لیے کسی ایسی حکومت کو تسلیم کرنا آسان نہین ہو گا جو طاقت کے بل بوتے پر حکومت میں آئی ہو۔

افغان امور کے ماہر صحافی سمیع یوسف زئی کا کہنا ہے کہ طالبان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں صرف اس صورت میں جامع حکومت بن سکتی تھی اگر طالبان اور سابق حکومت کے درمیان کوئی سیاسی تصفیہ طے پا جاتا۔

سمیع یوسف کا کہنا ہے کہ اب صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے اب طالبان نے بغیر کسی سیاسی تصفیے کے کابل کا کنڑول حاصل کیا ہے۔

لیکن ان کے خیال مین بین الاقوامی برداری کے لیے کابل میں جامع حکومت کا فی الحال نہ بننا مسئلہ نہیں ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے یہ زیادہ اہم ہے کہ طالبان کی بین الاقوامی پالیسی کیا ہو گی اور وہ کس طرزِ عمل کا مظاہرہ کریں گے۔

سمیع یوسف زئی کے خیال میں بین الاقوامی برداری طالبان کو موقع دینا چاہتی ہے کہ وہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے بارے میں اپنے وعدے پورے کرتے ہیں یا نہیں۔

کیا عبوری حکومت میں شامل وزرا پاکستان نواز ہیں؟

افغان طالبان کی طرف سے اعلان کردہ عبوری حکومت میں شامل زیادہ تر افراد پاکستان کے قریب سمجھتے جاتے ہیں۔ لیکن تجزیہ کاروں کے بقول یہ تاثر بھی درست نہیں کہ اب افغان حکومت پاکستان کے کنٹرول میں ہے۔

طاہر خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان سے قریبی روابط رکھنا طالبان کی مجبوری تھی لیکن اب شاید وہ پاکستان کی زیادہ مداخلت قبول نہیں کریں گے۔

طاہر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر جیسے ممالک کی خواہش ہو گی کہ طالبان کی حکومت میں ایسے لوگ شامل ہوں جو ان کے قریب ہوں لیکن ایسا نہیں کہ طالبان کسی ملک کے کہنے پر اپنے فیصلے کریں گے۔

سمیع یوسف زئی کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ پاکستان کے تعلق میں اُتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ اُن کے بقول سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پاکستانی حکومت نے امریکہ کا ساتھ دیا تو پاکستان نے کئی طالبان رہنماؤں کی گرفتاری میں امریکہ کی مدد کی تھی۔

سمیع یوسف زئی کے بقول ان تمام محرکات کے باوجود طالبان کو یہ ادراک ہے کہ پاکستان ایک اہم ہمسایہ ملک ہے اور اس کے ساتھ اچھے روابط رکھنا ناگزیر ہے۔

اُن کے بقول پاکستان کے لیے بھی یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ طالبان کی عبوری کابینہ میں ایسے لوگ شامل ہے جو پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور اگر پاکستان ان کے ساتھ اچھے روابط رکھے گا تو اسلام آباد اور کابل کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG