رسائی کے لنکس

طالبان کے ناقد سمجھے جانے والے مغوی مذہبی عالم اور بیٹے کی لاشیں برآمد


افغانستان کےدارالحکومت کابل سے چند روز قبل اغوا ہونے والے مذہبی عالم مولوی ابو عبید اللہ متوکل اور ان کے بیٹے کی گولیوں سے چھلنی لاشیں اتوار کے روز نواحی سیاحتی علاقے لغمان سے برآمد ہوئی ہیں۔

مولوی ابو عبیداللہ متوکل اور ان کے بیٹے عبیدا للہ کو چند روز قبل مسلح نقاب پوش افراد نے ان کے گھر سے اغوا کرلیا تھا۔

مقتولین کے رشتے داروں کا مؤقف ہے کہ اغوا کرنے والے مسلح نقاب پوشوں نے اپنے آپ کو طالبان ظاہر کیا تھا۔

تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں مولوی ابو عبیداللہ متوکل اور ان کے شاگرد کے اغوا اور بعد ازاں قتل سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

اپنے ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

مولوی عبیداللہ متوکل کون تھے؟

کابل کے ایک سینئر صحافی دانش کڑوخیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مولوی ابو عبیداللہ متوکل کا شمار ان چند اہم مذہبی رہنماؤں میں ہوتا تھا جو نائن الیون کے بعد سیاسی عمل کی حمایت تو کر تے تھے لیکن بعض معاملات بالخصوص انتظامی اداروں میں بدعنوانی کے رجحان کے ناقد بھی تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ ابو عبید اللہ متوکل کا تعلق اہلِ حدیث مکتبِ فکر سے تھا جسے افغانستان میں جماعتِ سلفیہ بھی کہتے ہیں۔

ایک اور صحافی سید رحمان نے بتایا کہ مولوی ابو عبیدا للہ متوکل حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر تنقید کرنے کے علاوہ تحریکِ طالبان افغانستان کی جنگ اور مزاحمت پر مبنی پالیسوں پر بھی سخت تنقید کیا کرتے تھے ۔ اسی طرح وہ اپنی تقاریر میں طالبان کی حمایت کرنے پر پاکستان پر بھی کڑی نکتہ چینی کرتے تھے۔

سید رحمان کا کہنا ہے کہ مولوی متوکل طالبان کے بجائے داعش کی حمایت کرتے تھے اور اسی بنیاد پر اُنہیں 16-2015 میں امریکی افواج نے حراست میں لیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک سال قبل ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت میں مولوی متوکل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں نے گرفتار کرکے کچھ عرصہ کے لیے تحویل میں لے رکھا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا ردعمل

افغانستان میں انسانی حقوق کے ایک تنظیم سے منسلک لال گل لعل نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت میں مولوی عبیدا للہ متوکل اور ان کے شاگرد کے اغوا اور قتل کے واقعے کو افسوس ناک قرار دیا۔

کیا افغانستان میں طالبان کو داعش سے خطرہ ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:46 0:00

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام سے ہی طالبان نہ صرف افغانستان کو محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ دنیا کے سامنے خود کو بہتر انداز میں پیش کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ طالبان نے اس واقعے سے لاعلمی اور لاتعلقی کا اظہار کیا ہے تاہم یہ طالبان ہی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کریں۔ اس واقعے میں ملوث افراد کو بے نقاب کریں اور انہیں قرار واقعی سزا بھی دیں۔

لال گل لعل کا کہنا ہے کہ افغانستان میں برسراقتدار آنے والے طالبان کا فرض بنتا ہے کہ وہ سیاسی انتقامی کارروائیوں بالخصوص مذہب، سیاسی نظریے اور فرقے کی بنیاد پر لوگوں کے خلاف کارروائی نہ کریں۔ تمام لوگوں بالخصوص سیاسی رہنماؤں، بچوں، عورتوں اور دیگر کے حقوق کا احترام کریں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے انتقام نہ لینے اور زبردستی نہ کرنے کے وعدے تو کیے ہیں مگر ابھی تک انہوں نے عملی طور پر اس کو ثابت نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اب امن اور استحکام کی ضرورت ہے لہذٰا طالبان کو چاہیے کہ وہ عوامی امنگوں کے مطابق طرزِ عمل اختیار کریں۔

کابل میں مظاہرہ

صحافی سید رحمان نے بتایا کہ مولوی ابو عبید اللہ متوکل کی تجہیز و تدفین کے موقعے پر کابل میں ایک بہت بڑا مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

مظاہرے میں شامل افراد طالبان کے خلاف نعرے لگا رھے تھے اور وہ اس واقعے میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے اور ذمے داران کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

افغانستان میں جماعت سلفیہ نے ایک بیان میں طالبان سے مذہبی منافرت کی بنیاد پر لوگوں کے خلاف تشدد روکنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG