رسائی کے لنکس

logo-print

پولیسں تشدد کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ


پنجاب کے شہر ساہیوال میں پولیس فائرنگ سے چار افراد کی ہلاکت کے خلاف لاہور میں مظاہرہ۔ 21 جنوری 2019

پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ حراست کے دوران پولیس کے تشدد کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے کیونکہ پولیس کے محکمے میں تشدد کرنے والے اہل کاروں کے خلاف کارروائی کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

اسلام آباد میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے قیدیوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ’جسٹس پراجیکٹ پاکستان‘ کے اشتراک ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق صرف فیصل آباد ڈسٹرکٹ میں 2006 سے 2012 کے دوران پولیس تشدد کے 1424 مصدقہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے متعلق تحقیقات کے بعد سامنے آنے والے نتائج و سفارشات پر مبنی رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ عدالت میں فراہم کی گئی میڈیکل رپورٹ میں ان کیسز میں پولیس تشدد کو ثابت کیا گیا ہے۔

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سربراہ جسٹس (ر) علی نواز چوہان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تفتیش کے دوران پولیس تشدد کے واقعات پر اقوام متحدہ سمیت کئی یورپی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کمیشن کے رکن چوہدری شفیق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کمیشن کو مجرموں ہمدردی نہیں ہے لیکن اُن کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک روا رکھنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تشدد کرنے والے پولیس اہل کاروں یا افسران کے خلاف پولیس کے اندر محکمانہ کاروائی یا سزا دینے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

سابق سینٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس مصدقہ رپورٹ میں دستاویزات اور شواہد کے ساتھ پولیس تشدد کے واقعات کو ثابت کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تشدد کے خاتمے کے لیے قانونی بل اب بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے پر موجود ہے اور وہ بل ضرور منظور ہونا چاہیے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ یورپی ممالک کی جانب سے پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے لئے دیئے گئے مراعاتی پیکج (جی ایس پی پلس) کی جائزہ رپورٹ آنے سے پہلے تشدد کی روک تھام کے لئے اقدامات کا اعلان کریں اور سینیٹ سے منظور شدہ بل کو ہی مشترکہ پارلیمنٹ سے منظور کروا کر قانون بنائیں۔

فرحت اللہ بابر نے تجویز کیا کہ پولیس کے تربیتی نصاب میں آئین، جمہوری حقوق اور انسانی احترام کو شامل کیا جائے۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی ڈائریکٹر سارہ بلال نے بتایا کہ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولیس تشدد کے واقعات تواتر سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں جو چیز سب سے زیادہ افسوس ناک ہے وہ یہ ہے کہ ان 1424 کیسز میں تشدد میں ملوث کسی بھی پولیس آفیسر کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کی گئی۔

تجویز کیا گیا ہے کہ تشدد کے تدارک کے لئے پولیس اصلاحات کی جائیں جب کہ پولیس تشدد کے خلاف رپورٹ کرنے کے لئے ضلعی سطح پر شکایاتی مرکز بنائے جائیں جہاں شہریوں کی شکایات کا ازالہ ہو سکے۔

رپورٹ کی سفارشات کے مطابق آزادانہ تحقیقات کے لئے دوسرے اضلاع کی پولیس سے تحقیقات کروائی جانی چاہئیں۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے تشدد کے خلاف کنونشن پر عمل درآمد کی بھی سفارش کی ہے۔

پولیس تشدد کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ ساہیوال میں پولیس نے مبینہ جعلی مقابلے میں چار افراد کو ہلاک کر دیا۔ جب کہ نیب کی حراست میں بھی ایک پروفیسر ہلاک ہو گئے۔

نیب کی حراست میں موجود دیگر ملزمان نے حراستی مراکز میں تشدد اور نامناسب رویوں کی شکایت کی ہے۔

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ علی نواز چوہان کا کہنا ہے کہ کمشن کو قومی احتساب بیورو کے حراستی مراکز کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی ہے جب کہ قانون کے تحت کمشن نیب سمیت کسی بھی ادارے کے حراستی مراکز کا جائزہ لے سکتا ہے۔ انھوں نے کہا تمام ادارے آئین کے تحت قانون کے تابع ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG