رسائی کے لنکس

کرونا وائرس سے جنگ کے دوران پاکستان اور بھارت کی ایل او سی پر جھڑپیں


فائل فوٹو

بھارت اور پاکستان کی افواج کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برس سے دونوں ملک متنازع علاقے کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر مسلسل جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب جوہری طاقت کے حامل ممالک کرونا وائرس کی وبا کو قابو کرنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہمیشہ سے کشیدگی کی وجہ رہا ہے۔ لیکن گزشتہ برس نئی دہلی نے کشمیر کی خود مختار آئینی حیثیت ختم کر دی تھی اور اس کو دو حصوں میں تقسیم کر کے مرکز کے ماتحت کر دیا تھا۔ اس اقدام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں ہی پورے کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیتے ہیں۔ دونوں ممالک کی فوجیں اکثر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہونے والی فائرنگ یا شیلنگ کا الزام ایک دوسرے پر لگاتی رہتی ہیں۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کو 2003 میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی ٹھہراتے ہیں۔

ایل او سی دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر روایتی سرحد ہے جس پر ہونے والی فوجی جھڑپوں سے ہر سال دونوں جانب سیکڑوں شہری بھی ہلاک ہوتے ہیں۔

'رائٹرز' نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارت کی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ یعنی مارچ 2020 میں پاکستان کی فوج نے 411 بار سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔

بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ 2018 کے بعد پاکستان کی جانب سے کسی ایک مہینے میں یہ سب سے زیادہ مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ بھارتی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2019 میں پاکستان کی فوج نے 267 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔

دوسری جانب پاکستان کی فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج نے کبھی بھی ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا آغاز نہیں کیا۔ البتہ سرحد پر بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا جواب دیا جاتا رہا ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق پاکستان کی فوج نے رواں برس بھارت کی جانب سے 705 بار سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات رپورٹ کیے ہیں۔

ادھر بھارت کی فوج کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے رواں برس 1197 بار سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

دونوں ممالک کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار کی کسی بھی آزاد ذرائع تصدیق ممکن نہیں ہے۔

'رائٹرز' کے مطابق بھارت کی فوج کے چار افسران نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پر کشیدگی کا مقصد کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی معاونت ہوتا ہے۔

ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ پاکستان سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دراندازی ہو رہی ہے۔

ایک ایسے ماحول میں جب پاکستان اور بھارت سمیت پوری دنیا کرونا وائرس کی وبا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ حالانکہ دونوں ممالک میں کرونا وائرس کے ہزاروں کیسز سامنے آ چکے ہیں اور متعدد ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

بھارت میں کرونا وائرس کے 6200 سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ وبا سے 186 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کرونا وائرس
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:18 0:00

دوسری جانب پاکستان میں 4400 سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے دونوں ممالک کی افواج بھی اپنی حکومتوں کی معاونت کر رہی ہیں۔

بھارتی فوج کے حکام کا دعویٰ ہے کہ جب بھی گرمی کا موسم قریب آتا ہے، عسکریت پسندوں کی کشمیر میں دراندازی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔

بھارتی سیکیورٹی حکام نے خفیہ اداروں کی رپورٹس کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان سے 250 سے 300 کے لگ بھگ عسکریت پسند کشمیر میں دراندازی کی کوشش کر سکتے ہیں۔

'رائٹرز' کے مطابق موسم گرما کے آغاز پر مبینہ دراندازی کے حوالے سے بھارتی فوج کے حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب سردی میں برف باری کے بعد حفاظتی باڑ ٹوٹ چکی ہوتی ہے اور ہماری سرحدی باڑ انتہائی کمزور ہو جاتی ہے۔

دو روز قبل پیر کو بھارت کی فوج نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فورسز نے ایل او سی پر پاکستان کی پشت پناہی سے کشمیر میں داخل ہونے والے پانچ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ دوسری جانب بھارت کی فوج کے بھی پانچ اہلکار مارے گئے تھے۔

پاکستان ہمیشہ سے کشمیر میں عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کی تردید کرتا رہا ہے۔ البتہ اسلام آباد کی جانب سے کشمیر کے لوگوں کی حق خود ارادیت اور سیاسی حمایت کی جاتی رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG