رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور بھارت کے درمیان ’ورکنگ باؤنڈری‘ پر کشیدگی


پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی ’آئی ایس پی آر‘ کی جانب سے منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق اقوام متحدہ کا فوجی مبصر گروپ سے احتجاج کیا گیا ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ اُس نے بھارت کی جانب سے ’بلااشتعال‘ فائرنگ پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصرگروپ سے شدید احتجاج کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی ’آئی ایس پی آر‘ کی جانب سے منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق اقوام متحدہ کا فوجی مبصر گروپ پاکستان اور بھارت میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گا۔

اُدھر پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور خارجہ اُمور سرتاج عزیز نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سرتاج عزیز نے بیان میں بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی پر عمل کرے اور امن و امان کو بحال کرنے میں مدد کرے۔

وزرات خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف کی حکومت حتی المکان تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور پاکستان نے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بھی بڑھایا۔

بیان کے مطابق بھارت کی جانب سے خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات کی اچانک منسوخی سے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی امن کی کوششوں کو دھچکا لگا۔

سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان نے متعدد بار دونوں ملکوں کے درمیان ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطے اور سیکٹر کمانڈروں کے درمیان ملاقاتوں جیسے مروجہ طریقوں کو استعمال کرنے پر زور دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو بھی امن و امان یقینی بنانے کے لیے جنگ بندی کی نگرانی میں اپنا ضروری کردار ادا کرنا چاہیئے۔

اُدھر پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک سرحدی ضلع سیالکوٹ میں بھارت کی سرحد کے قریب ’چاروا سیکٹر‘ میں منگل کو بھی فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں جن میں مزید تین پاکستانی زخمی ہو گئے۔

جب کہ کشمیر کو منقسم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے چار بھارتی شہری زخمی ہوئے۔

اس سے قبل اتوار کو سیالکوٹ میں ورکنگ باؤنڈری پر پاکستانی اور بھارتی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے سے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے چار پاکستانی جب کہ چار بھارتی شہری بتائے گئے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے بھی فائر بندی کی ان خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت پر زور دیا تھا۔

پیر کی شب پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں ورکنگ باؤنڈری کے قریب ’چاروا سیکٹر‘ میں بھارتی فورسز کی مبینہ بلااشتعال فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے، اس پر بھارت سے احتجاج بھی کیا گیا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے اُس کے چار شہریوں میں دو بچے اور خاتون بھی شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے سفارتی ذرائع سے اس واقع پر احتجاج کے علاوہ زور دیا کہ بھارت فائرنگ بندی کی ’خلاف ورزیاں‘ بند کرے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اکتوبر کے مہینے میں بھارتی فورسز کی جانب سے سرحد پر فائر بندی کی چھ بار خلاف ورزی کی جا چکی ہے۔

جب کہ بھارتی فورسز کا دعویٰ ہے کہ اتوار کو اس کے کئی دیہاتوں میں پاکستانی فورسز کی طرف سے گولے بھی پھینکے گئے۔

دونوں جانب سے ایک دوسرے پر اس سے قبل بھی فائر بندی کی خلاف ورزی میں پہل کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے کے واقعات میں اضافہ بھی دیکھا گیا جس میں دونوں جانب سے متعدد افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔

2003ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے متنازع علاقے کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے فائر بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس پر بیشتر وقت دونوں جانب سے عمل درآمد کیا جاتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG