رسائی کے لنکس

logo-print

پاک بھارت سرحد پر فائرنگ جاری، لوگوں کی نقل مکانی


سرحد پر اس کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے جمعہ کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے

پاکستان اور بھارت کی سرحدی فورسز کے درمیان ورکنگ باؤنڈری کے علاوہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا، جس میں دونوں جانب مزید افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق اب تک پاکستان اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں دونوں جانب 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔ ہلاک اور زخمی افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

سرحد پر اس کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے جمعہ کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے، جس میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت اس معاملے پر غور کریں گے۔

اُدھر سیالکوٹ کے قریب پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باؤنڈری پر چار واہ، چھپڑار اور ہرپال سیکٹر میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب فائرنگ اور گولہ باری سے حکام کے مطابق مزید تین پاکستانی شہری ہلاک ہوئے۔

جب کہ کشمیر میں بھی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کے تبادلے کے واقعات سامنے آئے۔ بھارتی عہدیداروں کا الزام ہے کہ پاکستان کی جانب سے اُن کے علاقوں میں فائرنگ کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق فائرنگ اور گولہ باری کے ان واقعات کے باعث سینکڑوں افراد اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان 2003ء میں ’لائن آف کنٹرول‘ پر فائر بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔

تجزیہ کار حسن عسکری کہتے ہیں کہ اگرچہ فائر بندی کے معاہدے پر بیشتر وقت تک عمل درآمد ہوتا رہا تاہم 2013ء کے بعد سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کے واقعات تواتر سے ہوتے رہے ہیں۔

پاکستان نے بھارت کی جانب سے ’بلااشتعال‘ فائرنگ پر منگل کو اقوام متحدہ کے فوجی مبصرگروپ سے بھی شدید احتجاج کیا تھا۔

پاکستانی عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ اکتوبر کے اوائل سے بھارتی فورسز مسلسل سرحد پر فائر بندی کی خلاف ورزیاں کرتی آ رہی ہیں۔

دونوں جانب سے ایک دوسرے پر اس سے قبل بھی فائر بندی کی خلاف ورزی میں پہل کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG