رسائی کے لنکس

logo-print

پاک بھارت محدود جوہری جنگ دنیا کو طویل قحط میں دھکیل سکتی ہے


1945 میں جاپان کے شہر ہیروشما پر جوہری بم گرائے جانے کے بعد تباہی کا ایک منظر۔

ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور گلوبل وارمنگ کے کرہ ارض پر منفی اثرات پر گفتگو کی جا رہی ہے، ایک تازہ رپورٹ میں ایک اور بڑھتے ہوئے خطرے کی جانب توجہ دلائی گئی ہے جس کا ماخذ پاکستان اور بھارت ہیں۔ لیکن، اس کی قیمت پوری دنیا کو چکانی پڑ سکتی ہے۔ اس خطرے کو جوہری ٹھنڈ کا نام دیا گیا ہے۔

ایک سائنسی جریدے'Proceedings of the National Academy of Sciences' میں شائع ہونے والے ایک کثیر ملکی مطالعاتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان موجود جذباتی ہیجان سے اچانک ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے، جس سے جوہری جنگ چھڑ جائے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ یہ جنگ بہت قلیل مدت کی ہو گی لیکن اس کا خمیازہ دنیا بھر کو تقریباً دس برس تک بھگتنا پڑے گا جس میں بڑے پیمانے کا قحط بھی شامل ہے۔

ایک اندازے کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں جوہری بموں کی تعداد 14000 کے لگ بھگ ہے، جن میں سے پچانوے فی صد بم امریکہ اور روس کے پاس ہیں، جب کہ باقی ماندہ 5 فی صد جوہری ہتھیار پاکستان اور بھارت سمیت دیگر پانچ ملکوں کے اسلحہ خانوں میں پڑے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے متعلق اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس 150 ایٹمی بم ہیں۔

سوویت یونین نے اپنے پہلے جوہری بم کا دھماکہ 1949 میں کیا تھا۔
سوویت یونین نے اپنے پہلے جوہری بم کا دھماکہ 1949 میں کیا تھا۔

مطالعاتی جائزے میں تجزیہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مختصر دورانیئے کی جنگ میں اگر دونوں ملک ہیروشما پر گرائے جانے والی جوہری بم کی مساوی طاقت کے پچاس بم استعمال کرتے ہیں تو دنیا پر اس کے کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ دونوں ملکوں کے پاس ہیروشما پر گرائے گئے بم سے کہیں طاقت ور جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، دونوں ملکوں کی جنگ میں استعمال ہونے والی جوہری قوت، دنیا میں موجود جوہری اسلحے کا محض ایک فی صد ہو گی۔ مگر اس ایک فی صد کی تباہی کے اثرات دہلا دینے والے ہیں۔

ماہرین کے اندازے کے مطابق، بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور تباہی کے ساتھ ساتھ آسمان کی طرف جو گرد و غبار کے بادل بلند ہوں گے اس سے فضا میں 50 لاکھ ٹن مٹی اور گرد و غبار بکھر جائے گا جو کسی ایک جگہ موجود نہیں رہے گا بلکہ رفتہ رفتہ پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس سے زمین پر آنے والے سورج کی روشنی اور حرارت میں رکاوٹ پیدا ہو گی جس سے زمین کا درجہ حرارت تقریباً دو فی صد درجے سینٹی گریڈ یا سو تین ڈگری فارن ہائیٹ تک گر جائے گا۔ اس طرح کرہ ارض ایک سرد دور میں داخل ہو جائے گا جس سے فصلوں کی پیداوار گر جائے گی۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ خوردنی اجناس یعنی گندم، چاول، مکئی اور سویابین کی پیداوار 11 فی صد تک کم ہو جائے گی۔ یہ صورت حال پانچ سے دس سال تک قائم رہ سکتی ہے۔

ناسا کے گوڈرڈ انسٹی ٹیوٹ فار سپیس اسڈیز کے ایک ماہر جونس جاگرمیر کی قیادت میں ہونے والی اس مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محدود جوہری جنگ کے نتیجے میں 70 غریب ملکوں کے لیے خوراک کی فراہمی 20 فی صد سے زیادہ کم ہو جائے گی۔ ان ملکوں کی مجموعی آبادی ایک ارب 30 کروڑ سے زیادہ ہے۔ اس قلت سے ایک ایسا قحط جنم لے سکتا ہے، جس کی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کا ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان دونوں ملکوں میں جو ایک دوسرے کے خلاف جوہری بم استعمال کریں گے، آنے والے کئی برسوں تک کوئی فصل پیدا نہیں ہوگی جس سے تقریباً پونے دو ارب آبادی کے اس خطے پر کیا گزرے گی، اس وقت کوئی بھی تصور نہیں کر سکتا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ اس مطالعے میں کم تر سطح کے جوہری بموں کی بنیاد پر تحقیق و تجزیہ کیا گیا ہے، جب کہ عملی طور پر ان دونوں حریف ملکوں کے پاس کہیں زیادہ طاقت ور جوہری بم موجود ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحقیق میں تابکاری سے ہونے والی تباہ کاریوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ وہ قحط سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہیں اور ان کے اثرات عشروں تک جاری رہتے ہیں۔

تحقیق کے شریک مصنف اور نیوجرسی کی ریٹگرز یونیوسٹی میں آب و ہوا کے ایک ماہر ایلن روبوک کہتے ہیں کہ اگر جوہری ہتھیار برقرار رہے تو ان کے استعمال سے دنیا کو انتہائی دکھ بھرے حالات سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG