رسائی کے لنکس

کنٹرول لائن پر جھڑپیں اور روس میں مشترکہ فوجی مشقیں


پاکستانی فوج نے اس سال فروری میں سمندر کے راستے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مشقیں کی تھیں۔ (فائل فوٹو)
پاکستانی فوج نے اس سال فروری میں سمندر کے راستے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مشقیں کی تھیں۔ (فائل فوٹو)

ایک ایسے موقع پر جب جنوبی ایشیا کے دو جوہری ہمسایہ ملکوں کے درمیان متنازع کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں، پاکستان اور بھارت روس میں انسداد دہشت گردی کی کثیر ملکی فوجی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

پاکستان کی فوج نے منگل کے روز یہ اعلان کیا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تحت ایک ہفتے پر محیط سینٹر 2019 کی مشقوں میں حصہ لے رہی ہے جو روس کے علاقے اورنبرگ میں شروع ہو گئی ہیں۔

فوج کے میڈیا ونگ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سینٹر 2019 میں حصہ لینے والی فوجیں خطے کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی مشق کرتی ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 2001 میں شنگھائی میں عمل میں آیا تھا۔ اس وقت ایس سی او میں روس، چین، قازقستان، تاجکستان اور ازبکستان، بانی ارکان کے طور پر شامل ہوئے تھے۔

پاکستان اور بھارت نے 2017 میں اس گروپ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے بعد پچھلے سال روس کی میزبانی میں ہونے والی انسداد دہشت گردی کی فوجی مشقوں میں شرکت کی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں حریف ملک اقوام متحدہ کے تحت دنیا بھر میں امن قائم رکھنے کی سرگرمیوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر حصہ لیتے ہیں۔

تاہم موجودہ فوجی مشقیں ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہیں جب بھارت کی جانب سے کشمیر کی حیثیت تبدیل کیے جانے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان شدید تناؤ کی صورت حال ہے۔

بھارت اپنے اس اقدام کا یہ کہتے ہوئے دفاع کرتا ہے کہ اس کی مدد سے انہیں مسلم اکثریتی متنازع علاقے جموں و کشمیر میں امن و امان کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے جہاں گزشتہ تین عشروں سے نئی دہلی کے اقتدار کے خلاف مسلح جد و جہد جاری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے دونوں ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم آئندہ چند دنوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے نیویارک آ ر ہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پیر کے روز نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم سے ملاقات کریں گے اور توقع ہے کہ اس کے نتیجے میں صورت حال میں کافی بہتری آئے گی۔ تاہم انہوں نے مزید کوئی تفصيل نہیں بتائی۔

XS
SM
MD
LG