رسائی کے لنکس

بھارت نے آلودگی پر قابو پانے کی پاکستان کی تجویز مسترد کر دی


شدید دھند کی وجہ سے شمالی بھارت میں آمد ر رفت کے مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے۔ 8 نومبر 2017

پاکستانی پنجاب کی وزیر ماليات ذکیہ شاہ نواز خان نے اپنے ایک مضمون میں یہ مشورہ دیا کہ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کریں اور اس کے لیے جنوب ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم، سارک، مناسب پلیٹ فارم ہے۔ لیکن بھارت نے اس مشورے کو مسترد کر دیا۔

سہیل انجم

بھارت اور پاکستان بہت سے معاملات میں ایک دوسرے سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن دونوں کا ایک مشترکہ دشمن ہے اور وہ ہے فضائی آلودگی۔ اس وقت شمالی بھارت اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کی فضاؤں پر گہری کہر اور دھند چھائی ہوئی ہے جس کی ایک بڑی وجہ فصلوں کی باقيات کو نذر آتش کرنا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اس صورت حال پر قابو پانے میں ایک حکمت عملی تک پہنچ گیا ہے لیکن بھارت اس مسئلے سے بری طرح دوچار ہے۔

دہلی میں جب فضائی آلودگی اپنے عروج پر پہنچ گئی تو وزیر اعلی اروند کیجری وال اور دوسروں نے اس کے لیے پنجاب اور ہریانہ میں فصلوں کی باقيات جلانے کے عمل کو اس کی وجہ قرار دیا۔ لیکن متعدد کوششوں کے باوجود حکومت کسانوں کو اس عمل سے باز رکھنے میں ہنوز ناکام ہے۔

کیجری وال نے جب ٹوئیٹر کے توسط سے پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ سے اپیل کی کہ وہ اس پر پابندی لگائیں تو ان کے جواب سے قبل پاکستانی پنجاب سے جواب آ گیا۔ وہاں کے سرکاری ٹوئیٹر ہینڈل سے کہا گیا کہ ہم نے باقيات نذر آتش کرنے پر پابندی لگا دی ہے اور امید کرتے ہیں کہ امریندر سنگھ بھی ایسے ہی اقدامات کریں گے۔

پاکستانی پنجاب کی وزیر ماليات ذکیہ شاہ نواز خان نے اپنے ایک مضمون میں یہ مشورہ دیا کہ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کریں اور اس کے لیے جنوب ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم، سارک، مناسب پلیٹ فارم ہے۔ لیکن بھارت نے اس مشورے کو مسترد کر دیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ سارک اجلاس اسی صورت میں منعقد ہو سکتا ہے جب ایک ملک دہشت گردی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا بند کر دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے اس موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے کہ بات چیت کے لیے سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کی اعانت بند کرکے ماحول سازگار کرے۔

بھارت پہلے بھی پاکستان پر اس قسم کا إلزام عائد کرتا رہا ہے۔ جبکہ پاکستان ایسے تمام الزامات کی سختی سے ترديد کرتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کے خلاف آپریشن چلائے ہوئے ہے۔

دریں اثنا مرکزی وزارت ماحولیات نے آلودگی پر قابو پانے کے لیے ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا اجلاس مستقل بنیادوں پر ہوگا۔

ادھر نیشنل گرین ٹربیونل نے آلودگی پر قابو پانے کے لیے دہلی حکومت کی جانب سے 13 نومبر سے طاق اور جفت کے فارمولے کے تحت گاڑیوں کی آمد و رفت کے فیصلے پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ اور دیگر اداروں کی ان رپورٹوں کے باوجود کہ یہ فارمولہ موثر نہیں ہے، حکومت اس کو اختیار کر رہی ہے۔ اس نے کہا کہ ہم نے اس بارے میں متعدد تجاویز پیش کیں لیکن حکومت صرف اسی ایک فارمولے پر عمل کر رہی ہے۔

ادھر کیپٹن امریندر سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ایک خط میں اپیل کی ہے کہ موجودہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے وزرائے اعلیٰ کا ایک اجلاس طلب کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG