رسائی کے لنکس

logo-print

کرتارپور راہداری: پاک بھارت مذاکرات واہگہ بارڈر پر جاری


کرتار پور راہداری پر پاک بھارت مذاکرات جاری ہیں۔

کرتار پور راہداری پر مذاکرات کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات واہگہ بارڈر پر جاری ہیں، مذاکرات میں شرکت کے لیے بھارت کا سات رکنی وفد پاکستان پہنچا ہے۔

پاکستانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ایشیا ڈاکٹر محمد فیصل کر رہے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق، اجلاس میں کرتارپور راہداری پر دونوں اطراف ترقیاتی کام کی پیش رفت سمیت مختلف امور پر بات ہو گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، ’’پاکستان اپنے حصے کا 80 فیصد سے زیادہ کام مکمل کر چکا ہے، جبکہ بھارت میں بھی راہداری پر تیزی سے کام جاری ہے‘‘۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، کرتارپور راہداری پر ہونے والے مذاکرات اہم ہیں۔ لیکن، اِس بات چیت کو پاکستان اور بھارت کے درمیان باضابطہ بات چیت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت کی مجبوری یہ ہے کہ وہ سکھوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہے گا۔ پہلے جو مذاکرات ہوئے اُس پر بھارت کو تاخیر سے آنا پڑا ہے، تاکہ کرتارپور منصوبہ مکمل ہو جائے اور سکھوں کے دل میں اپنی اہمیت بڑھائی جائے‘‘۔

بقول ان کے، ’’پاکستان کو اِن مذاکرات کا فائدہ زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ پاکستان نے بات چیت کی دعوت دے کر گُڈوِل پیدا کی ہے۔ لیکن، اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی باضابطہ بات چیت شروع ہو جائے گی، کیونکہ بھارت ہر مسئلے کو ایک الگ حیثیت میں لے رہا ہے؛ گفتگو کے سلسلے کے طور پر نہیں لے رہا کہ اِس سے مستقبل میں مزید بات چیت کے امکانات پیدا ہو جائیں۔ ضروری نہیں ہے کہ اِن مذاکرات سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بھی بہتر ہوں۔ یہ اپنی جگہ الگ مسئلہ ہے”۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، بھارت نے مبینہ طور پر خالصتان کے حامی افراد کو کرتارپور راہداری کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی میں شامل کرنے کا بہانہ بنا کر رواں سال دو اپریل 2019ء کو ہونے والے مذاکرات ملتوی کر دیے تھے۔ حکومتی جماعت، پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی سردار مہندر پال سنگھ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ پاکستان نے جس طرح سے سکھوں اور اقلیتوں کی بہتری کے لیے اقدامات اُٹھائے ہیں اور سکھوں کی عبادتگاہوں کے لیے جو انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

مہندر پال سنگھ نے کہا کہ ’’یہ بہت بڑی بات ہے۔ یہ تو امن کا پیغام بھی ہے نہ کہ جن کے اُوپر اُن کو اعتراض تھا تو ہم نے امن کے لیے اُن کی خواہش کا احترام کیا ہے‘‘۔

ان کے الفاظ میں، “اگر آپ کو ایک بندے پر اعتراض ہے تو ہم اِس کے لیے بھی تیار ہیں۔ ہم دونوں ملکوں میں امن لانا چاہتے ہیں کیونکہ پوری دنیا امن کی خواہاں ہے۔ اگر ہمارے ایک نام کی وجہ سے امن نہیں آ سکتا تو ہم نے اِس کو پیچھے ہٹا لیا ہے۔ یہ بھی ایک بہت بڑی قربانی ہے پاکستان کی اور خوش آئند کام ہے”۔

اطلاعات کے مطابق، پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہدری کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں بھارتی سکھ یاتریوں کے پاکستان میں داخلے کے طریقہ کار، رجسٹریشن، کسٹم، امیگریشن، انٹری فیس، کرنسی کی نوعیت اور حد، ٹرانسپورٹ، پاکستان میں قیام کا دورانیہ اور طبی سہولیات مختلف امور پر بات ہو گی۔

اجلاس میں کرتارپور راہداری کے افتتاح کی تاریخ پر بھی بات ہو گی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری پر پہلی بات چیت رواں برس 14 مارچ کو بھارت کے سرحدی علاقے اٹاری پر ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG