رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت نے کرتار پور پر مذاکرات ملتوی کردیے، پاکستان کا اظہارِ افسوس


فائل فوٹو

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان مذاکرات سے پہلے پاکستان "بعض معاملات کی وضاحت کرے" اور ماہرین کی کمیٹی کا ایک اور اجلاس بلایا جائے۔

بھارت نے کرتار پور راہداری کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ 2 اپریل کو ہونے والے طے شدہ مذاکرات ملتوی کردیے ہیں۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان مذاکرات سے پہلے پاکستان "بعض معاملات کی وضاحت کرے" اور ماہرین کی کمیٹی کا ایک اور اجلاس بلایا جائے۔

پاکستان نے بھارتی فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات سے عین قبل یہ فیصلہ ناقابلِ فہم ہے۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے پاکستان پر اپنے تحفظات واضح کردیے ہیں اور بعض معاملات کی وضاحت طلب کی ہے۔

بیان کے مطابق نئی دہلی نے پاکستان سے ان اطلاعات کی بھی وضاحت مانگی ہے جن کے مطابق پاکستان نے بعض متنازع افراد کو کرتار پور سے متعلق کمیٹی میں شامل کیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق نئی دہلی کو کرتار پور کے امور سے متعلق پاکستان میں بنائی جانے والی ایک کمیٹی میں ایک سکھ رہنما کی شمولیت پر تشویش ہے جنہیں بھارت سکھوں کے علیحدہ وطن خالصتان کی تحریک کا حامی سمجھتا ہے۔

بھارتی بیان کے مطابق پاکستان کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ آئندہ مذاکرات سے قبل ماہرین کی کمیٹی کا ایک اور اجلاس بلایا جائے اور جب اس بارے میں پاکستان کا جواب آئے گا تو اس کے بعد ہی بات چیت کے اگلے دور کا شیڈول طے کیا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تعمیراتی ڈھانچے کی تیزی سے تعمیر کے حوالے سے بھارت نے تجویز دی ہے کہ تیکنیکی ماہرین کا ایک اور اجلاس وسط اپریل میں منعقد کیا جائے جس میں زیرو پوائنٹ پر ہونے والی آخری میٹنگ کے حل طلب معاملات پر بات کی جاسکے۔

پاکستان کا اظہارِ افسوس

بھارت کی جانب سے مذاکرات ملتوی کرنے کے فیصلے پر پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تیکنیکی ماہرین کے درمیان 19 مارچ کو ہونے والی ملاقات بہت مثبت رہی تھی اور اب عین وقت پر بھارت کا مذاکرات ملتوی کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 14 مارچ کو پاک بھارت حکام نے 2 اپریل کو آئندہ اجلاس پاکستان کے علاقے واہگہ میں کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق 14 مارچ کو دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان بھارت کے سرحدی علاقے اٹاری میں ہونے والے مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا تھا جس میں بھارت نے کسی اختلافی معاملے پر بات نہیں کی۔

ترجمان کے بقول اگر بھارت کو کسی معاملے پر اعتراض تھا تو اسے مشترکہ اعلامیے میں اٹھانا چاہیے تھا۔ لیکن اب مذاکرات سے چند روز قبل اعتراضات اٹھانا مذاکرات سے راہِ فرار ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کھولنے کےحوالے سے مذاکرات کا اگلا دور 2 اپریل کو واہگہ بارڈر پر ہونا تھا جس کے لیے پاکستانی حکام کے بقول تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں۔

ان مذاکرات کی کوریج کے لیے پاکستان نے بھارتی صحافیوں کو بھی واہگہ آنے کی دعوت دی تھی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کے مختلف تیکنیکی امور طے کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ رواں سال شروع ہوا تھا۔ لیکن حالیہ کشیدگی کی وجہ سے بعض حلقے یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں یہ معاملہ بھی تعطل کا شکار ہوسکتا ہے۔

پاکستان کے اعلیٰ حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ بھارت میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات تک بھارتی حکومت کا معاندانہ رویہ برقرار رہے گا لیکن انتخابات کے بعد اس میں بہتری آنے کا امکان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG