رسائی کے لنکس

پاکستان میں افراطِ زر کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے: عالمی بینک


فائل فوٹو

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ درآمدات اور ترسیلات پر ادائیگیوں کے توازن کا انحصار ہے اور برآمدات میں اضافے سے ادائیگیوں کا توازن بہتر کیا جا سکتا ہے۔

عالمی بینک نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ناقص مالی و اقتصادی پالیسی (میکرو اکنامکس) کے نتیجے میں جہاں رواں مالی سال کے دوران پاکستان کے مالیاتی خسارے اور بیرونی قرضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے وہیں آئندہ مسلسل دو مالی سالوں کے دوران افراطِ زر کی شرح بھی بڑھ سکتی ہے۔

جنوبی ایشیا کی معیشتوں سے متعلق جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا پروگرام ختم ہونے کے بعد معیشت کے بیرونی اشاریوں میں تنزلی دیکھی گئی ہے۔

تاہم رپورٹ کے مطابق اگر پاکستانی اپنی شرح نمو میں اقتصادی سرگرمیوں کے ساتھ پیش رفت جاری رکھتا ہے تو یہ آئندہ سال پانچ فی صد سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے اسے اپنے مالیاتی خسارے پر توجہ دینا ہوگی اور بیرونی استحکام کو برقرار رکھنا ہوگا۔

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ درآمدات اور ترسیلات پر ادائیگیوں کے توازن کا انحصار ہے اور برآمدات میں اضافے سے ادائیگیوں کا توازن بہتر کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ پیش گوئی بھی کی گئی ہے کہ اگر پاکستان میں مثبت میکرو اکنامکس پالیسیاں، سیاسی ماحول میں استحکام اور حکومت کی جانب سے قلیل المعیاد اصلاحات متعارف کرائی گئیں تو مالی سال 2019ء میں زرِ مبادلہ بڑھے گا لیکن ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ ہو گا۔

رپورٹ میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے میں سرمایہ کاری سے براہ راست بیرونی سرمایہ کاری مستحکم ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG