رسائی کے لنکس

logo-print

'پاکستان میں مغرب سے زیادہ اظہارِ رائے کی آزادی ہے'


پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چودھری (فائل فوٹو)

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے سوشل میڈیا پر حکومت کے 'کریک ڈاؤن' کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادیٔ اظہار کے معاملے میں پاکستان مغرب سے کہیں آگے ہے۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ خصوصی فیس بک لائیو انٹرویو میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مغرب میں یہ تاثر ہے کہ شاید پاکستان میں صحافت یا آزادیٔ اظہار پر قدغن ہے حالاں کہ اس معاملے میں ان کے بقول پاکستان بہت سے مغربی معاشروں سے زیادہ آزاد ہے۔

فواد چودھری نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے جب پاکستان میں صرف رواں ماہ میں ہی کم از کم تین ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں حکام نے پاکستانی فوج اور دیگر ریاستی اداروں پر تنقید کرنے والے کارکنوں اور ایک صحافی کو گرفتار کیا۔

گزشتہ ہفتے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے لاہور کے ایک صحافی رضوان رضی کو سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں پر تنقید کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔

اس سے قبل فوج کی ناقد پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے حق میں لاہور میں مظاہرہ کرنے والے پروفیسر عمار علی جان کو پولیس نے گرفتار کیا جب کہ پی ٹی ایم کی ہی اسلام آباد میں منعقدہ ریلی کے دوران سماجی کارکن گلالئی اسماعیل سمیت متعدد کارکنان کو گرفتار کرکے جیل میں رکھا گیا۔

اس کے علاوہ حکومت نے چند دن پہلے ہی امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' میں شائع ہونے والے پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کے کالم کی پاکستان میں اشاعت بھی روک دی تھی۔ ایکسپریس ٹریبیون پاکستان میں نیویارک ٹائمز کا ناشر ہے۔

تاہم وی اے او کے ساتھ انٹرویو میں وزیرِ اطلاعات و نشریات نے اس تاثر کی نفی کی کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر تازہ 'کریک ڈاؤن' کا مقصد ریاست کی جانب سے روایتی اور غیر روایتی میڈیا پر پاپندیاں سخت کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کارروائی صرف ان لوگوں کے خلاف ہو گی جو سوشل میڈیا پر نفرت یا انتہا پسندی پھیلا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 2017ء میں پاکستانی فوج پر تنقید کرنے والے پانچ لبرل بلاگرز کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے مبینہ طور پر حراست میں لے لیا تھا۔ البتہ سماجی حلقوں اور بین الاقومی برادری کے دباؤ کے بعد ان افراد کو رہا کردیا گیا تھا۔

انٹرویو کے دوران وائس آف امریکہ کی جانب سے ان واقعات کی نشان دہی پر وفاقی وزیر نے 'وکی لیکس' کے بانی جولین اسانج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر ایک امریکی شہری لندن کے مختلف سفارت خانوں کے چکر لگا رہا ہے۔

اسی طرح ان کے بقول پاکستان کو بھی اپنی سیکورٹی اور سلامتی سب سے زیادہ عزیز ہے اور اس معاملے پر امریکہ اور پاکستان زیادہ مختلف نہیں۔

لیکن بین الاقومی ادارے 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے اپنی 2018ء کی رپورٹ میں تنبیہ کی ہے کہ پاکستان میں فوج اور ریاستی اداروں پر تنقید کرنا مشکل بنایا جا رہا ہے۔

ادارے کے بقول الیکٹرانک میڈیا خوف کے مارے سلیف سینسر شپ کا شکار ہے جب کہ آزادانہ رپورٹنگ اور سوشل میڈیا پر قدغنیں بڑھ رہی ہیں۔

ماہرین کے بقول اس تازہ کریک ڈاؤن سے خدشہ ہے کہ ریاستی ادارے اپنے اوپر تنقید کرنے والے شہریوں کی آواز دبانے کی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں جوکہ ایک جمہوری معاشعرے میں انسانی حقوق کی پامالی کے زمرے میں آتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG