رسائی کے لنکس

چودھری نثار نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ فقہ کی بنیاد پر اختلافات اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں اور انھوں نے کوئی غلط بات نہیں کی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے فرقے کی بنیاد پر قائم تنظیموں کا موازنہ کالعدم دہشت گرد گروپوں سے نہ کرنے کے اپنے بیان پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناقدین نے اس بیان سے اپنی مرضی کا مطلب اخذ کیا۔

رواں ہفتے ایوان بالا "سینیٹ" میں چودھری نثار نے ایک بیان دیا تھا کہ کالعدم قرار دی گئی فرقہ وارانہ تنظیموں کو کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے نہیں جوڑا جانا چاہیے اور فقہ کی بنیاد پر بننے والی تنظیموں کے لیے علیحدہ قوانین بنائے جانے چاہیئں۔

ان کے اس بیان پر حزب مخالف نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سینیٹ سے واک آؤٹ کیا اور حکومت کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا کہ وزیر داخلہ جن کالعدم مذہبی تنظیموں کے راہنماؤں سے ملتے ہیں وہ تشدد کی مبینہ طور پر ذمہ دار ہیں۔

ہفتہ کو اسلام آباد کے قریب کلرسیداں کے علاقے میں صحافیوں سے گفتگو میں چودھری نثار نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ فقہ کی بنیاد پر اختلافات اسلامی تاریخ کا حصہ ہے اور انھوں نے کوئی غلط بات نہیں کی ہے۔

" فقہ میں اختلافات ہوتے ہیں کئی جگہ ہماری تاریخ میں اختلافات خونی اختلافات کا (روپ دھار گئے)۔۔۔ میں نے یہ کون سے غلط بات کی ہے ، مگر میں نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ان تنظیموں کو جن کا آپس میں فقہ کی بنیاد پر اختلاف ہے ان کو کالعدم دہشت گرد (تنظیموں) سے علیحدہ کیا جائے تاکہ اس وقت جو بہت سارے خدشات ہیں کہ کون کس سے ملتا ہے کون نہیں ملتا اس کو دور کیا جائے۔"

وفاقی وزیرداخلہ کی کالعدم تنظیم اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی سے گزشتہ سال ہونے والی ملاقات کی ایک تصویر منظر عام پر آنے کے بعد سے خاص طور پر حزب مخالف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے انھیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مستعفی ہونے کا بھی کہا تھا۔

لیکن چودھری نثار نے اس کی وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان سے دفاع پاکستان کونسل کے وفد نے ملاقات کی تھی جس میں مولانا لدھیانوی بھی شامل تھے۔ یہ مختلف مذہبی تنظیموں پر مشتمل ایک کونسل ہے۔

پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے فرقہ وارانہ تشدد کا بھی سامنا رہا ہے جس میں شیعہ اور سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

2015ء میں ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل کے تحت ایسے افراد کے خلاف بھی کارروائیوں کا بتایا گیا کہ مسلک اور فرقے کی بنیاد پر منافرت پھیلانے اور تشدد پر اکسانے میں ملوث ہیں۔

تاہم اس لائحہ عمل پر موثر عملدرآمد نہ کیے جانے کے بارے میں بھی مختلف حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری داخلہ اور سلامتی کے امور کے تجزیہ کار تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کے مرتکب افراد یا تنظیموں سے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت ہی نمٹا جانا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG