رسائی کے لنکس

پاکستان اور ایران دو طرفہ سکیورٹی مؤثر بنانے پر متفق


پاکستانی وزارت خارجہ

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، پاکستان اور ایران کی اعلیٰ سطحی سرحدی کمیشن کا پہلا اجلاس 17 اور 18 جولائی کو تہران میں ہوا

پاکستان اور ایران نے سرحد پر درپیش دو طرفہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے سرحد کی نگرانی اور سکیورٹی کو مؤثر اور مربوط بنانے کے ایک طریقہٴ کار پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، پاکستان اور ایران کی اعلیٰ سطحی سرحدی کمیشن کا پہلا اجلاس 17 اور 18 جولائی کو تہران میں ہوا۔

پاکستانی وفد کی قیادت وزارتِ خارجہ میں افغانستان، ایران اور ترکی کے امور کے ڈائریکٹر جنرل منصور احمد اور ایرانی وفد کی قیادت ایران کی وزارت خارجہ کے بین الاقوامی قانونی امور کے ڈائریکٹر جنرل حسین آذر پناہی نے کی۔

بیان کے مطابق، دونوں ملکوں نے پاکستان اور ایران کے سرحدی انتظام سے متعلق 1960ء میں طے پانے والے باہمی سمجھوتے کے دائرہٴ کار کے تحت سرحد کی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے تعمیری بات چیت کی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ اسلام آباد اور تہران نے سرحد پر اسمگلروں اور جرائم پیشہ عناصر کی طرف سے درپیش چیلنج سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مربوط اور مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دوںوں ملکوں نے اس کے ساتھ 917 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد کی خلاف ورزی کے واقعات کو روکنے پر بھی اتفاق کیا۔

پاکستان اور ایران کے تعلقات پر نطر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے۔ تاہم، سب سے بڑا چیلنج سرحد کے آرپار عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت ہے جس کا سدباب کرنا دونوں ملکوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار رسول بخش رئیس نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اس علاقے میں منشیات کے اسمگلر، جرائم پیشہ عناصر سرگرم ہیں اور عسکریت پسند بھی ان کے ساتھ مل کر سرحد کے آرپار حرکت کرتے ہیں اور ان کی نقل و حرکت کو روکنا ایک چیلنج ہے جس کے لیے دونوں ملکوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ضروری ہے۔"

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں مشترکہ سرحد کی سکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے ایران اور پاکستان نے بارڈر کمیشن بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ پیش رفت 26 اپریل کو شدت پسندوں کے ایک حملے میں نو ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت کے بعد ہوئی۔ ایرانی حکام کے مطابق حملہ آور عسکریت پسند فرار ہو کر مبینہ طور پر پاکستانی علاقے کی طرف چلے گئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد کا دورہ کیا جس دوارن انہوں نے پاکستان کے سول اور عسکری حکام سے ملاقات کی، جس میں دونوں ملکوں نے دو طرفہ سرحد کی سکیورٹی کو مربوط بنانے کےایک لائحہ عمل وضح کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG